پھرتا ہوں بھٹکتا کوئی رہبر نہیں ملتا
پھرتا ہوں بھٹکتا کوئی رہبر نہیں ملتا
ہے وہ نگھرا اس کا مجھے گھر نہیں ملتا
یا رب مرض عشق ہے یا کوئی بلا ہے
چین اس دل بیتاب کو دم بھر نہیں ملتا
ہم کس سے کریں دعوئ خوں کیجئے انصاف
مقتول ہیں جس کے وہ ستم گر نہیں ملتا
سب آرزوئیں دل کی بخوبی نکل آئیں
تنہا وہ کبھی ہم سے گھڑی بھر نہیں ملتا
نقد دل و جاں نذر کروں مفت ہی لیکن
مجھ کو مرے ڈھب کا کوئی دلبر نہیں ملتا
اچھا کیا جو آ رہے آنکھوں میں ہی وہ فیضؔ
ایسا کہیں دنیا میں انہیں گھر نہیں ملتا