رشک فردوس چمن ہے اپنا
رشک فردوس چمن ہے اپنا
حیدرآباد وطن ہے اپنا
نسبت گور و کفن بے جا ہے
گور اپنی نہ کفن ہے اپنا
زیست کو مرگ سمجھتے ہیں ہم
پیرہن ہے سو کفن ہے اپنا
جو وہ کہتا ہے وہ ہم کہتے ہیں
دہن یار دہن ہے اپنا
کیوں نہ طوف در محبوب کریں
کعبہ اے قبلۂ من ہے اپنا