سکوت توڑے گا آنکھوں کو آب جو کرے گا
سکوت توڑے گا آنکھوں کو آب جو کرے گا جو کل عدو نے کیا تھا وہ آج تو کرے گا میں ہاتھ رکھتا ہوں سر پر سدا یتیموں کے یہی عمل مجھے دنیا میں سرخ رو کرے گا خود اپنے ہاتھ سے اپنا وجود چاک کیا یہی امید کہ تو آئے گا رفو کرے گا طویل عرصے کے بعد آج یہ گھڑی آئی کہ تیرا عشق مرے دل سے گفتگو کرے ...