Maqsood Afaq

مقصود آفاق

مقصود آفاق کی غزل

    سکوت توڑے گا آنکھوں کو آب جو کرے گا

    سکوت توڑے گا آنکھوں کو آب جو کرے گا جو کل عدو نے کیا تھا وہ آج تو کرے گا میں ہاتھ رکھتا ہوں سر پر سدا یتیموں کے یہی عمل مجھے دنیا میں سرخ رو کرے گا خود اپنے ہاتھ سے اپنا وجود چاک کیا یہی امید کہ تو آئے گا رفو کرے گا طویل عرصے کے بعد آج یہ گھڑی آئی کہ تیرا عشق مرے دل سے گفتگو کرے ...

    مزید پڑھیے

    ہم ترے عالم وحشت میں سہارے ہوئے ہیں

    ہم ترے عالم وحشت میں سہارے ہوئے ہیں وقت بدلا تو ہمیں پہلے کنارے ہوئے ہیں منتظر آج بھی ہیں تکتے ہیں تیرا رستہ ایک مدت سے میاں تجھ کو پکارے ہوئے ہیں ہجر میں تیرے جو نکلے ہیں مری آنکھ سے اشک گر پڑے جب یہ زمیں پر تو ستارے ہوئے ہیں روٹھنے کا ترے اب دکھ نہیں ہوگا ہم کو ہم اسی کرب میں ...

    مزید پڑھیے

    چراغ خواب شکستہ کی لو ہے مدھم دیکھ

    چراغ خواب شکستہ کی لو ہے مدھم دیکھ کبھی تو آ مری تنہائیوں کا عالم دیکھ جواز ڈھونڈ رہی ہیں کئی نگاہیں یہاں یہ تیری مرضی ہے تو چاہے مجھ کو کم کم دیکھ ہمارے شہر میں سچائیاں مقید ہیں یقیں نہ آئے تو چل آئنوں کا ماتم دیکھ ابھی ٹھہر اے جنازہ پڑھانے والے شخص بدن کے ملبے کے نیچے دبے ...

    مزید پڑھیے

    اک گھڑی جذبۂ نفرت کے سوا چاہتی ہے

    اک گھڑی جذبۂ نفرت کے سوا چاہتی ہے زندگی تجھ سے محبت کی دعا چاہتی ہے کیا کروں دوست تو اتنے بھی نہیں ہیں میرے روز یہ روح کوئی زخم نیا چاہتی ہے کیا عجب طور سے کرتی ہے شکست اپنی قبول اب یہ دنیا کوئی ہنگامہ بپا چاہتی ہے جس محبت کے لبوں سے کبھی جھڑتے تھے گلاب اب وہی لہجۂ آشفتہ نوا ...

    مزید پڑھیے

    آنکھیں بھی ماند تھیں مرا دل بھی فگار تھا

    آنکھیں بھی ماند تھیں مرا دل بھی فگار تھا ہائے وہ شخص جس کا مجھے انتظار تھا منسوب عمر رفتہ یہ اعزاز کم نہیں اک شخص منتہائے غم اعتبار تھا جب غیر کے لیے نہ رہا تیرا لمس غیر پھر تیرا انتظار بھی آنکھوں پہ بار تھا تاریکیاں نصیب تھیں عصیان زیست کو روشن جو تھا وہ میری وفا کا حصار ...

    مزید پڑھیے

    یہ حماقت مرے ادراک پہ چھائی ہوئی ہے

    یہ حماقت مرے ادراک پہ چھائی ہوئی ہے آنسوؤں سے ترے تصویر بنائی ہوئی ہے عرش ہلنے کا سبب پوچھتے کیا ہو مجھ سے اک دعا حلقۂ تاثیر میں آئی ہوئی ہے چاند مدھم ہے دیے چپ ہیں سحر روٹھ گئی کیا مرے غم میں گرفتار خدائی ہوئی ہے تم تو بس ترک تعلق کے لیے آ ہی گئے اب کے اس دل نے مگر بات بڑھائی ...

    مزید پڑھیے

    ہر قدم ایک قیامت جہاں باور آئے

    ہر قدم ایک قیامت جہاں باور آئے تیرے پیچھے تو کوئی سوچ سمجھ کر آئے میرے شوکیس کی تقدیر سنور سکتی ہے کیا یہ کم ہے کہ مرے گھر ترا پتھر آئے میں جنہیں مل نہ سکا وہ تو منافق ہوں گے جن کو آنا تھا مرے دل میں برابر آئے ہو سکے تو بہا دو اشک ندامت والے عین ممکن ہے کہ وہ شخص پلٹ کر آئے عالم ...

    مزید پڑھیے

    لب پہ آیا ہی نہ تھا حرف تمنا کوئی

    لب پہ آیا ہی نہ تھا حرف تمنا کوئی اب کے کرتا بھی تو کیا کرتا مداوا کوئی زندگی تیرے تغیر کی طرف دھیان گیا جب ہواؤں میں اچھالا گیا سکہ کوئی چارہ گر کوئی نہ ہمدرد نہ مخلص نہ رفیق شہر بے مہر میں کس واسطے آیا کوئی گردش وقت کو سمجھائے بھلا کون یہ بات روز چوکھٹ پہ تکے ہے مرا رستہ ...

    مزید پڑھیے

    کتنا با ظرف ہے وہ میرے برابر والا

    کتنا با ظرف ہے وہ میرے برابر والا خشک آنکھوں کو دیا غم تو سمندر والا باغبانی میں کٹی عمر تو ساری لیکن پھول اب تک نہ کھلا اپنے مقدر والا خواب کی وحشتیں قائم رہیں شب بھر مجھ پر در پہ دیتا ہی رہا دستکیں باہر والا ہجر آسیب ہے آسیب بھی ایسا صاحب حوصلہ ہار گیا میں بھی سکندر والا ہم ...

    مزید پڑھیے

    ہر ایک چہرہ ابھی آشنا نیا نیا ہے

    ہر ایک چہرہ ابھی آشنا نیا نیا ہے کہ شک تو لازمی ہے آئنہ نیا نیا ہے تری رضا کے مطابق ہی فیصلے ہوں گے تو صبر کر کہ ابھی رابطہ نیا نیا ہے وہ بعد ترک تعلق کرے ہے یاد مجھے اسے سلیقہ نہیں بے وفا نیا نیا ہے وہی مسرت وصل اور وہی عذاب فراق جز ایک نام محبت میں کیا نیا نیا ہے پڑی ہیں میز پہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2