چراغ خواب شکستہ کی لو ہے مدھم دیکھ

چراغ خواب شکستہ کی لو ہے مدھم دیکھ
کبھی تو آ مری تنہائیوں کا عالم دیکھ


جواز ڈھونڈ رہی ہیں کئی نگاہیں یہاں
یہ تیری مرضی ہے تو چاہے مجھ کو کم کم دیکھ


ہمارے شہر میں سچائیاں مقید ہیں
یقیں نہ آئے تو چل آئنوں کا ماتم دیکھ


ابھی ٹھہر اے جنازہ پڑھانے والے شخص
بدن کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے غم دیکھ


یہاں بھی مسئلہ بیعت کا ہی رہا ہوگا
لہو میں ڈوبے ہوئے ہیں ہزاروں پرچم دیکھ


یہاں کے لوگوں سے امید رکھ وفاؤں کی
کہ مدتوں یہاں بدلے نہیں ہیں موسم دیکھ


کبھی بھلا تو دیا تھا اسے مگر آفاقؔ
پلک جھپکتے ہی کیوں آنکھ ہو گئی نم دیکھ