Maqsood Afaq

مقصود آفاق

مقصود آفاق کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں

    ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں کہ روز تجھ سے بچھڑنے کا خواب دیکھتے ہیں کبھی کبھی تو ہمیں بھی یقیں نہیں آتا کہ ہم بہار میں جلتے گلاب دیکھتے ہیں تمہاری چشم تمنا کو دیکھنے والے کوئی خزانۂ غم زیر آب دیکھتے ہیں بس ایک آس کے رشتے پہ عمر کٹتی ہے کہ خشک پیڑ مسلسل سراب دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

    نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے

    نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے ہمارا شوق ہمیں کو نڈھال بولتا ہے عروج دلبری حسرت سے دیکھنے والے وہ سن جو سلسلۂ پائمال بولتا ہے یہ کیا ستم ہے کہ اب اس کا سامنا ہوگا جو لب ہلائے بنا بھی کمال بولتا ہے بھنور کو ایک کنارہ سمجھ رہا ہوں میں کسی کے ہونے کا کیا احتمال بولتا ہے زمانے ...

    مزید پڑھیے

    غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو

    غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو اب آنکھیں کھول دو اک پل کو روشنی کر لو غموں کے دور میں تم کو اگر ہے خوش رہنا تو مسکراؤ ذرا درد میں کمی کر لو اسی سہارے میں اک عمر کاٹ سکتا ہوں نظر سے چھو کے مرے خط کو سرمئی کر لو کسے خبر ہے کہ باقی ہے زندگی کب تک یہ مشورہ ہے کہ اب مجھ سے دوستی کر لو اک ...

    مزید پڑھیے

    پوچھے ہے مرا دل تری تنہائی سے کیا کیا

    پوچھے ہے مرا دل تری تنہائی سے کیا کیا پہلو میں کوئی شخص نمودار ہوا کیا دل سیل ہوس میں تو پہنچتا ہے کہیں اور مدہوش مسافر ہو تو منزل کا پتہ کیا اے ذہن رسا کچھ سپر انداز تو ہو جا دیکھیں تو جواب آتے ہیں افلاک سے کیا کیا کیوں پھیلتی جاتی ہے کوئی خوشبوئے مانوس دل ابر کی مانند ترے در ...

    مزید پڑھیے

    اپنی جانب ترے دل کے سبھی غم کھینچتے ہیں

    اپنی جانب ترے دل کے سبھی غم کھینچتے ہیں تیرے اپنے تو بڑھا دیتے ہیں ہم کھینچتے ہیں ہائے اے زندگی اب تیری مسافت کے عذاب بیٹھ جاتے ہیں کسی سائے میں دم کھینچتے ہیں وحشت ظلمت و تنہائی کے لشکر ہیں ادھر جس طرف مجھ کو ترے رحم و کرم کھینچتے ہیں صفحۂ ہستیٔ فانی پہ بہ ہر صورت شوق جو ...

    مزید پڑھیے

تمام