ہم ترے عالم وحشت میں سہارے ہوئے ہیں

ہم ترے عالم وحشت میں سہارے ہوئے ہیں
وقت بدلا تو ہمیں پہلے کنارے ہوئے ہیں


منتظر آج بھی ہیں تکتے ہیں تیرا رستہ
ایک مدت سے میاں تجھ کو پکارے ہوئے ہیں


ہجر میں تیرے جو نکلے ہیں مری آنکھ سے اشک
گر پڑے جب یہ زمیں پر تو ستارے ہوئے ہیں


روٹھنے کا ترے اب دکھ نہیں ہوگا ہم کو
ہم اسی کرب میں اک عمر گزارے ہوئے ہیں


کبھی یہ شہر شناسا بھی ہوا کرتا تھا
اب یہاں سب کے سب احساس کے مارے ہوئے ہیں


نعمت عشق میسر نہیں آتی سب کو
صاحب زر بھی یہاں ہاتھ پسارے ہوئے ہیں