ہر قدم ایک قیامت جہاں باور آئے

ہر قدم ایک قیامت جہاں باور آئے
تیرے پیچھے تو کوئی سوچ سمجھ کر آئے


میرے شوکیس کی تقدیر سنور سکتی ہے
کیا یہ کم ہے کہ مرے گھر ترا پتھر آئے


میں جنہیں مل نہ سکا وہ تو منافق ہوں گے
جن کو آنا تھا مرے دل میں برابر آئے


ہو سکے تو بہا دو اشک ندامت والے
عین ممکن ہے کہ وہ شخص پلٹ کر آئے


عالم وجد میں آنے تو دے اک بار مجھے
ایک تو کیا تری تصویر بھی چل کر آئے


اگلا موسم ہو تباہی کا یہ ممکن ہے میاں
ایک مدت ہوئی بستی میں قلندر آئے


ہو گیا آج عیاں تیرے تصور کا طلسم
دل کی دہلیز پہ الفاظ کے لشکر آئے


کوئی آفاقؔ محبت کی حمایت میں نہیں
جانے کتنے ہی نشان اس کے بدن پر آئے