لب پہ آیا ہی نہ تھا حرف تمنا کوئی
لب پہ آیا ہی نہ تھا حرف تمنا کوئی
اب کے کرتا بھی تو کیا کرتا مداوا کوئی
زندگی تیرے تغیر کی طرف دھیان گیا
جب ہواؤں میں اچھالا گیا سکہ کوئی
چارہ گر کوئی نہ ہمدرد نہ مخلص نہ رفیق
شہر بے مہر میں کس واسطے آیا کوئی
گردش وقت کو سمجھائے بھلا کون یہ بات
روز چوکھٹ پہ تکے ہے مرا رستہ کوئی
آئینے خود چلے آتے ہیں مقابل میرے
شان میں پڑھتا ہے جب میرے قصیدہ کوئی
دولت عجز نئی رت میں نہ ڈھونڈو کہ یہاں
یا تو بنتا ہے یا کرتا ہے تماشا کوئی
اب کے آفاقؔ مری آنکھوں میں آنسو بھی نہ تھے
گرم مٹی پہ تڑپتا رہا پیاسا کوئی