Maqsood Afaq

مقصود آفاق

مقصود آفاق کی غزل

    ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں

    ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں کہ روز تجھ سے بچھڑنے کا خواب دیکھتے ہیں کبھی کبھی تو ہمیں بھی یقیں نہیں آتا کہ ہم بہار میں جلتے گلاب دیکھتے ہیں تمہاری چشم تمنا کو دیکھنے والے کوئی خزانۂ غم زیر آب دیکھتے ہیں بس ایک آس کے رشتے پہ عمر کٹتی ہے کہ خشک پیڑ مسلسل سراب دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

    نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے

    نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے ہمارا شوق ہمیں کو نڈھال بولتا ہے عروج دلبری حسرت سے دیکھنے والے وہ سن جو سلسلۂ پائمال بولتا ہے یہ کیا ستم ہے کہ اب اس کا سامنا ہوگا جو لب ہلائے بنا بھی کمال بولتا ہے بھنور کو ایک کنارہ سمجھ رہا ہوں میں کسی کے ہونے کا کیا احتمال بولتا ہے زمانے ...

    مزید پڑھیے

    غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو

    غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو اب آنکھیں کھول دو اک پل کو روشنی کر لو غموں کے دور میں تم کو اگر ہے خوش رہنا تو مسکراؤ ذرا درد میں کمی کر لو اسی سہارے میں اک عمر کاٹ سکتا ہوں نظر سے چھو کے مرے خط کو سرمئی کر لو کسے خبر ہے کہ باقی ہے زندگی کب تک یہ مشورہ ہے کہ اب مجھ سے دوستی کر لو اک ...

    مزید پڑھیے

    پوچھے ہے مرا دل تری تنہائی سے کیا کیا

    پوچھے ہے مرا دل تری تنہائی سے کیا کیا پہلو میں کوئی شخص نمودار ہوا کیا دل سیل ہوس میں تو پہنچتا ہے کہیں اور مدہوش مسافر ہو تو منزل کا پتہ کیا اے ذہن رسا کچھ سپر انداز تو ہو جا دیکھیں تو جواب آتے ہیں افلاک سے کیا کیا کیوں پھیلتی جاتی ہے کوئی خوشبوئے مانوس دل ابر کی مانند ترے در ...

    مزید پڑھیے

    اپنی جانب ترے دل کے سبھی غم کھینچتے ہیں

    اپنی جانب ترے دل کے سبھی غم کھینچتے ہیں تیرے اپنے تو بڑھا دیتے ہیں ہم کھینچتے ہیں ہائے اے زندگی اب تیری مسافت کے عذاب بیٹھ جاتے ہیں کسی سائے میں دم کھینچتے ہیں وحشت ظلمت و تنہائی کے لشکر ہیں ادھر جس طرف مجھ کو ترے رحم و کرم کھینچتے ہیں صفحۂ ہستیٔ فانی پہ بہ ہر صورت شوق جو ...

    مزید پڑھیے

    تپتے صحرا میں کہیں کوئی شجر آتا ہے

    تپتے صحرا میں کہیں کوئی شجر آتا ہے درد پر ترک سکونت کا اثر آتا ہے صدمۂ ہجر سے محفوظ رکھوں گا تجھ کو مجھ کو قسطوں میں بچھڑنے کا ہنر آتا ہے دن گزر جاتا ہے تعبیر کی حسرت لے کر رات ہوتی ہے تو پھر خواب اتر آتا ہے جب سے جانے ہیں محبت کے فوائد ہم نے ایک ہی شخص کئی بار نظر آتا ہے درد ...

    مزید پڑھیے

    پچھلے زخموں کا ازالہ نہ ہی وحشت کرے گا

    پچھلے زخموں کا ازالہ نہ ہی وحشت کرے گا تجھ سے واقف ہوں مری جاں تو محبت کرے گا میں چلا جاؤں گا دنیا سے سکندر کی طرح اگلی صدیوں پہ مرا نام حکومت کرے گا پیش ہے دوسرے عالم میں بھی تنہا رہنا میں نے سوچا تھا تو دنیا سے بغاوت کرے گا دل تری راہ اذیت سے پلٹنے کو ہے کیا تو اب بھی نہ مرا ...

    مزید پڑھیے

    عرش خدا خموش ہے تحت الثرا میں چپ

    عرش خدا خموش ہے تحت الثرا میں چپ شور اتنا ہے کہ پھیل گئی ہے فضا میں چپ اس نے بھی اپنے ہونٹوں کو پابند کر لیا میں نے بھی ڈال رکھی ہے دست دعا میں چپ الزام اب تو تیر کی مانند آئیں گے تم آئے بھی تو یوں کہ تھی آواز پا میں چپ سورج تعلقات کا ڈھلنے پہ آ گیا میرے جنوں میں شور ہے تیری وفا ...

    مزید پڑھیے

    محشر ہجر ترا صورت خس سامنے ہے

    محشر ہجر ترا صورت خس سامنے ہے اک برس بیت گیا ایک برس سامنے ہے صورت عشوۂ خاشاک ہے آوارہ وجود کیا سنبھل پائے گا دریائے ہوس سامنے ہے حرف شرط آتا ہے جب تیری زباں پر سر شام ایسا لگتا ہے کہ اک اور قفس سامنے ہے جانے کس وقت یہ اڑ کر مرے دل تک پہنچے منزلیں دور ہیں آزار جرس سامنے ہے اس ...

    مزید پڑھیے

    مجھ میں تنہائی مری اور میں تنہائی میں

    مجھ میں تنہائی مری اور میں تنہائی میں اجنبی ہو گئے سب دشت شناسائی میں اپنے اندر ہی رعونت کی فضا ہے شاید لوگ اترتے ہی نہیں روح کی گہرائی میں کھل گیا اب کہ ہے آداب محبت بڑی چیز ہم جو معروف ہوئے جلوۂ رسوائی میں یہ تو طے ہے کہ مجھے تجھ سے جدا ہونا ہے مثل آنسو ہوں تری چشم تمنائی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2