ہر ایک چہرہ ابھی آشنا نیا نیا ہے
ہر ایک چہرہ ابھی آشنا نیا نیا ہے
کہ شک تو لازمی ہے آئنہ نیا نیا ہے
تری رضا کے مطابق ہی فیصلے ہوں گے
تو صبر کر کہ ابھی رابطہ نیا نیا ہے
وہ بعد ترک تعلق کرے ہے یاد مجھے
اسے سلیقہ نہیں بے وفا نیا نیا ہے
وہی مسرت وصل اور وہی عذاب فراق
جز ایک نام محبت میں کیا نیا نیا ہے
پڑی ہیں میز پہ بکھری کسی کی تصویریں
نگاہ رکھیے کہ گھر میں دیا نیا نیا ہے
اب اس کا نام چلو اعتبار ہی رکھ لیں
زبان وصل پہ اک آبلہ نیا نیا ہے
جو دائمی ہے زمین و فلک کے بیچ آفاقؔ
ہمارے درمیاں وہ فاصلہ نیا نیا ہے