آنکھیں بھی ماند تھیں مرا دل بھی فگار تھا

آنکھیں بھی ماند تھیں مرا دل بھی فگار تھا
ہائے وہ شخص جس کا مجھے انتظار تھا


منسوب عمر رفتہ یہ اعزاز کم نہیں
اک شخص منتہائے غم اعتبار تھا


جب غیر کے لیے نہ رہا تیرا لمس غیر
پھر تیرا انتظار بھی آنکھوں پہ بار تھا


تاریکیاں نصیب تھیں عصیان زیست کو
روشن جو تھا وہ میری وفا کا حصار تھا


پہلے پہل جو ربط تھا جنت سا اپنے بیچ
پھر یہ کھلا وہ عشق نہ تھا کار زار تھا


پھر یوں ہوا کہ اس نے بھلا ہی دیا مجھے
کرتا بھی کیا گلہ میں اسے اختیار تھا


آفاقؔ وہ جدا بھی ہوا تھا تو زعم سے
پھر اس کو یاد کرنا بھی اک شاہکار تھا