یہ حماقت مرے ادراک پہ چھائی ہوئی ہے

یہ حماقت مرے ادراک پہ چھائی ہوئی ہے
آنسوؤں سے ترے تصویر بنائی ہوئی ہے


عرش ہلنے کا سبب پوچھتے کیا ہو مجھ سے
اک دعا حلقۂ تاثیر میں آئی ہوئی ہے


چاند مدھم ہے دیے چپ ہیں سحر روٹھ گئی
کیا مرے غم میں گرفتار خدائی ہوئی ہے


تم تو بس ترک تعلق کے لیے آ ہی گئے
اب کے اس دل نے مگر بات بڑھائی ہوئی ہے


منکشف ہونے لگا خون ہتھیلی پہ مرے
ایک لڑکی کی ہتھیلی جو حنائی ہوئی ہے


اتنی وحشت کہ ہوس وجد میں آنے سے رہی
اک صدا جانب افلاک سے آئی ہوئی ہے


چھو لوں ہونٹوں سے تو دریا کو بھی صحرا کر دوں
پیاس تیری مرے ہونٹوں پہ سمائی ہوئی ہے


شہر ویران اب آباد ہوا چاہتا ہے
آج اس پنچھی کی پنجرے سے رہائی ہوئی ہے


بارش اشک میں بہہ جائے گا اب شہر کا شہر
آج آفاقؔ کوئی چیز پرائی ہوئی ہے