کتنا با ظرف ہے وہ میرے برابر والا
کتنا با ظرف ہے وہ میرے برابر والا
خشک آنکھوں کو دیا غم تو سمندر والا
باغبانی میں کٹی عمر تو ساری لیکن
پھول اب تک نہ کھلا اپنے مقدر والا
خواب کی وحشتیں قائم رہیں شب بھر مجھ پر
در پہ دیتا ہی رہا دستکیں باہر والا
ہجر آسیب ہے آسیب بھی ایسا صاحب
حوصلہ ہار گیا میں بھی سکندر والا
ہم منائیں گے نیا سال تری یاد کے ساتھ
زخم اس بار ہرا ہوگا دسمبر والا
قہقہوں سے تو زمانہ ہوا محروم ہیں لب
اور فسانے میں مرا رول ہے جوکر والا
توڑے جائیں گے ستم تیرے تجھی پر آفاقؔ
اک تماشہ تو ابھی اور ہے محشر والا