چاند کی کھیتی
اس برس کاروبار اچھا ہوگا میری چاند کی کھیتی لگتا ہے بہتر ہوگی لوگوں سے سنا ہے اس بار اندھیرے زیادہ برسیں گے
اس برس کاروبار اچھا ہوگا میری چاند کی کھیتی لگتا ہے بہتر ہوگی لوگوں سے سنا ہے اس بار اندھیرے زیادہ برسیں گے
دھول میں لپٹی دبلی سی ہلکی پھلکی میری یہ لکھائی کیا ہوا جو مہنگے کپڑے نہیں پہنتی کسی کے بنائے ہوئے رستے پہ نہیں چلتی ذرا سا منہ دھو لے اگر ٹھوکروں سے بھر کے پیٹ اپنا تھوڑا میٹھا بھی کھا لے اگر تو اسے بھی مہنگے کپڑے دلا دیں گے ہم کوئی نام دے دیں گے اسے اک دن صاف ستھرے کسی رستے پہ ...
زمیں ہے تو تاروں کی ہم سے یہ دوری ہے زمیں ہے تو میری اور تیری یہ مجبوری ہے یہ زمیں ہے تو میں کہنیوں پہ چلتا ہوں زمیں ہے تو تمہیں چھونے کو ترستا ہوں یہ زمیں ہے تو ہے یہ آسمان اڑنے کے لیے زمیں ہے تو کچھ تو ہے تیرے گرنے کے لیے یہی سوچ کے کہ تم برسو گے کبھی ایک دن بنا چھت کے ایک مکان ...
کچھ بھاری سے سوال آنکھوں میں لیے میں راتیں کچلتا رہتا ہوں پوری رات خواب جھگڑتے رہتے ہیں تکیے پہ میرے راتیں کراہتی رہتی ہیں سرہانے نیند آتی ہے دیر سے اب
خوابوں کی چادر تلے تیری خوشبو کو لوریاں سناتا ہوں گھر میں سب کہتے ہیں میں نیندوں میں گنگناتا ہوں لفظ مچلتے ہیں سرہانے میں نظمیں بنتا رہتا ہوں گھر میں سب کہتے ہیں میں نیندوں میں مسکراتا ہوں
اس کا خط آیا ہے میرے پتے پر لکھا ہے یہ جو میں نام اس کا انگلی سے تکیے پہ لکھ اپنی لمبی راتیں رکھ دیتا ہوں اس پہ تو دم گھٹتا ہے اس کا اور اس کو نیندیں نہیں آتی
یہ جو تیری تلاش میں نکلتا ہوں میں سیاہ اندھیری راتوں میں ایک کاغذ پہ لکھ کے نام تیرا تو لوگ پہچانتے نہیں تمہیں جانتے نہیں تیری خوشبو کی چھڑی پکڑ کے چل کے ساری رات میں تاروں پہ اپنا پتا چھوڑ آتا ہوں کبھی گزرو تو پڑھ لینا سنا ہے وہیں پہ رہتے ہو تم
صبح ہونے سے ذرا پہلے میری رات ملتی ہے مجھے پاؤں جمع کے چلتی ہوئی اندھیرے میں شرابور آنچل سے اندھیرے نچوڑتی ہوئی میرے گھر کے موسم سے کوئی شکایت سی کرتی ہوئی میں اسے دلاسا دیتا ہوں بارش کا موسم جانے کو ہے
میں گھر کے پتے کی ایک پرچی ہر صبح ان کی جیب میں رکھ دیتا ہوں کسی کو کہیں مل جائے میری گم ہو گئی کوئی نظم تو مجھے بتا دینا میری نظمیں سیر کرتی ہیں اکیلی شہر میں اب
دھڑکنیں مچلتی ہیں سینے میں سانسوں کو پہرے پہ بٹھا رکھا ہے ہچکیاں نہ جانے کب دستک دے دیں خواہشوں کا پھندا گلے سے نکلتا ہی نہیں