پہرے داری منیش چندرا 07 ستمبر 2020 شیئر کریں دھڑکنیں مچلتی ہیں سینے میں سانسوں کو پہرے پہ بٹھا رکھا ہے ہچکیاں نہ جانے کب دستک دے دیں خواہشوں کا پھندا گلے سے نکلتا ہی نہیں