پہرے داری

دھڑکنیں مچلتی ہیں سینے میں
سانسوں کو پہرے پہ بٹھا رکھا ہے
ہچکیاں نہ جانے کب دستک دے دیں
خواہشوں کا پھندا گلے سے نکلتا ہی نہیں