M. Nasrullah Nasr

ایم ۔ نصراللہ نصر

ایم ۔ نصراللہ نصر کی غزل

    کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہے

    کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہے سفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہے رقابت کا سبب بنتا ہے اکثر روز کا ملنا ذرا سی بات پہ ملنا ملانا چھوٹ جاتا ہے بہت افسوس ہوتا ہے ضعیفی میں بزرگوں کو جواں بیٹے کا جب مضبوط شانہ چھوٹ جاتا ہے یہی دستور فطرت ہے خزاں کے دور میں اکثر شجر کے ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد لوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعد عقل حیران ہے اس شخص کی دانائی پر جس نے توڑے کئی اصنام ہیں اصنام کے بعد دن گزر جاتا ہے ہنگامۂ دنیا میں مگر چین آتا ہے کہاں مجھ کو سر شام کے بعد جو ابھی شہرت و دولت میں ہوا ہے اندھا ہوش میں آئے گا لیکن برے ...

    مزید پڑھیے

    جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے

    جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے چمن میں باد مخالف چلے خدا نہ کرے تمام عمر گزاری ہے غم کی راہوں میں دراز عمر ہو میری کوئی دعا نہ کرے ہزار ضبط کا عادی ہے دل مرا لیکن ستم کی بارشیں حد سے کوئی سوا نہ کرے بہت ہی تلخ ہیں یادیں ہمارے ماضی کی پھر آئے درد کا موسم وہی خدا نہ کرے ہیں اس کے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے

    دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے خود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجے فاقہ کر لیجئے اس شہر جفا میں لیکن خم انا کی کبھی دستار نہ ہونے دیجے جس کی تعمیر میں اسلاف کا خوں شامل ہو اس حویلی کو تو مسمار نہ ہونے دیجے گفتگو میں بھی رہے حسن تکلم کا خیال اور لہجے کو بھی تلوار نہ ہونے ...

    مزید پڑھیے

    کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں

    کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں درد مند اب سماج ہے ہی نہیں اس کو شک کی ہے ایک بیماری اور شک کا علاج ہے ہی نہیں کیا دکھائیں اسے ہم آئینہ اس کی آنکھوں میں لاج ہے ہی نہیں مسئلے حل ہوں کیسے جب ہم میں قوت احتجاج ہے ہی نہیں آج انصاف کوئی کیا پائے شاہ عادل کا راج ہے ہی نہیں ہے تعلق بھی ...

    مزید پڑھیے

    چراغوں کو بجھانا چاہتا ہے

    چراغوں کو بجھانا چاہتا ہے اندھیرا مسکرانا چاہتا ہے سلامت پر نہیں ہیں جس کے دیکھو وہ تارے توڑ لانا چاہتا ہے تری آنکھوں کا کجراری یہ خنجر مرے دل کا نشانہ چاہتا ہے وہ آنا چاہتا ہے میرے دل میں مگر کوئی بہانہ چاہتا ہے بہت رویا ہے دور بے بسی میں مگر اب مسکرانا چاہتا ہے کوئی سنتا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسے

    کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسے میری فریاد بھی مفلس کی دعا ہو جیسے تیرے آنے سے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو بعد مدت کے دیا گھر میں جلا ہو جیسے وقت رخصت تری پلکوں پہ چمکتے آنسو تھرتھراتا سا ہواؤں میں دیا ہو جیسے تیرے رخسار پہ پھیلے ہوئے گیسو ہمدم رخ پہ مہتاب کے ساون کی گھٹا ہو ...

    مزید پڑھیے

    وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہے

    وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہے بہت مشہور ہوتا جا رہا ہے جسے تھا ناز اپنی دل کشی پر وہ شیشہ چور ہوتا جا رہا ہے کہاں ہجرت کرے زخمی پرندہ بہت مجبور ہوتا جا رہا ہے پرانا زخم جو تو نے دیا تھا وہ اب ناسور ہوتا جا رہا ہے ملی ہے یار اس کو کیسی شہرت بڑا مغرور ہوتا جا رہا ہے خوشی کا نصرؔ جو ...

    مزید پڑھیے

    کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دو

    کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دو چمن کو میرے ذرا خوش لباس رہنے دو میں خار و خس ہی سہی کچھ تو کام آؤں گا مجھے جلاؤ نہیں گھر کے پاس رہنے دو خوشی ملی ہے تمہاری یہ خوش نصیبی ہے اداس رہنا ہے مجھ کو اداس رہنے دو کبھی تمہاری نظر مجھ پہ کیوں نہیں پڑتی سنا ہے تم ہو ستارہ شناس رہنے دو فقیر ...

    مزید پڑھیے

    تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے

    تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے سدا ہے سرفرازی خاکساری کو زمانے میں کہ تنکا تیرتا رہتا ہے پتھر ڈوب جاتا ہے سمندر کی تہوں سے لوگ موتی ڈھونڈ لاتے ہیں کوئی بحر تلاطم میں اتر کر ڈوب جاتا ہے سفر راہ محبت کا نہیں آساں مرے ہمدم یہ ایسا بحر ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2