کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں
کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں
درد مند اب سماج ہے ہی نہیں
اس کو شک کی ہے ایک بیماری
اور شک کا علاج ہے ہی نہیں
کیا دکھائیں اسے ہم آئینہ
اس کی آنکھوں میں لاج ہے ہی نہیں
مسئلے حل ہوں کیسے جب ہم میں
قوت احتجاج ہے ہی نہیں
آج انصاف کوئی کیا پائے
شاہ عادل کا راج ہے ہی نہیں
ہے تعلق بھی مصلحت آمیز
دلبری کا رواج ہے ہی نہیں
خم کرے سر در امارت پر
نصرؔ کا یہ مزاج ہے ہی نہیں