چراغوں کو بجھانا چاہتا ہے

چراغوں کو بجھانا چاہتا ہے
اندھیرا مسکرانا چاہتا ہے


سلامت پر نہیں ہیں جس کے دیکھو
وہ تارے توڑ لانا چاہتا ہے


تری آنکھوں کا کجراری یہ خنجر
مرے دل کا نشانہ چاہتا ہے


وہ آنا چاہتا ہے میرے دل میں
مگر کوئی بہانہ چاہتا ہے


بہت رویا ہے دور بے بسی میں
مگر اب مسکرانا چاہتا ہے


کوئی سنتا نہیں ہے نصرؔ اس کی
وہ حال غم سنانا چاہتا ہے