جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد
لوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعد


عقل حیران ہے اس شخص کی دانائی پر
جس نے توڑے کئی اصنام ہیں اصنام کے بعد


دن گزر جاتا ہے ہنگامۂ دنیا میں مگر
چین آتا ہے کہاں مجھ کو سر شام کے بعد


جو ابھی شہرت و دولت میں ہوا ہے اندھا
ہوش میں آئے گا لیکن برے انجام کے بعد


لوگ رکھتے ہیں تعلق بھی غرض سے اپنی
رخ بدل لیتے ہیں موسم کی طرح کام کے بعد


شام کے بعد ہوئی صبح تو جانا ہم نے
ملتی خوشیاں ہیں مگر گردش ایام کے بعد


ساتھ دینا تھا ابھی نصرؔ کا کچھ دیر تلک
اٹھ گئے آپ بھی میخانے سے دو جام کے بعد