تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے

تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے
انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے


سدا ہے سرفرازی خاکساری کو زمانے میں
کہ تنکا تیرتا رہتا ہے پتھر ڈوب جاتا ہے


سمندر کی تہوں سے لوگ موتی ڈھونڈ لاتے ہیں
کوئی بحر تلاطم میں اتر کر ڈوب جاتا ہے


سفر راہ محبت کا نہیں آساں مرے ہمدم
یہ ایسا بحر ہے جس میں شناور ڈوب جاتا ہے


تظلم کی حکومت دیر تک رہتی نہیں قائم
لہو میں اپنے ہی اک دن ستم گر ڈوب جاتا ہے


کبھی غفلت میں مت رہنا کہ اکثر ہوتا ہے ایسا
سفینہ شوق کا ساحل سے لگ کر ڈوب جاتا ہے


غزل ہوتی ہے جب تخلیق تو اے نصرؔ اس لمحے
خیالوں کے سمندر میں سخنور ڈوب جاتا ہے