کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دو
کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دو
چمن کو میرے ذرا خوش لباس رہنے دو
میں خار و خس ہی سہی کچھ تو کام آؤں گا
مجھے جلاؤ نہیں گھر کے پاس رہنے دو
خوشی ملی ہے تمہاری یہ خوش نصیبی ہے
اداس رہنا ہے مجھ کو اداس رہنے دو
کبھی تمہاری نظر مجھ پہ کیوں نہیں پڑتی
سنا ہے تم ہو ستارہ شناس رہنے دو
فقیر رکھتے نہیں زرق برق پوشاکیں
مرے بدن پہ یہ سادہ لباس رہنے دو
زبان کھولو گے جب بھی انا بھی جائے گی
کرو نہ اس سے کوئی التماس رہنے دو
ہزار تلخ ہے لہجہ کسی کا نصرؔ تو کیا
زباں میں اپنی مگر تم مٹھاس رہنے دو