M. Nasrullah Nasr

ایم ۔ نصراللہ نصر

ایم ۔ نصراللہ نصر کی غزل

    نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعد

    نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعد پرند لوٹ کے آیا ہے کچھ اڑان کے بعد بچھڑ کے ماں سے کڑی دھوپ میں جلے اکثر ملا سکون کہاں اس کے سائبان کے بعد سکون پائے تو پائے بھی کس طرح انساں ہیں امتحان کئی ایک امتحان کے بعد پھر اس کے پاؤں کی زنجیر بن گئی غربت بنا سکا نہ کوئی گھر جلے مکان کے ...

    مزید پڑھیے

    خیر کو خیر شر کو شر کہنا

    خیر کو خیر شر کو شر کہنا سر قلم ہو تو ہو مگر کہنا دکھ بشر کا نہ جو بشر سمجھے اس بشر کو نہ تم بشر کہنا لوگ چہرے پہ رکھتے ہیں چہرہ ہر کسی کو نہ معتبر کہنا سنگ ریزے تو سنگ ریزے ہیں سنگ ریزوں کو مت گہر کہنا ہے برا فعل آدمی کا یہ سب کی باتیں ادھر ادھر کہنا درد کے پھل ہی جس میں آتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2