دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے
دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے
خود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجے
فاقہ کر لیجئے اس شہر جفا میں لیکن
خم انا کی کبھی دستار نہ ہونے دیجے
جس کی تعمیر میں اسلاف کا خوں شامل ہو
اس حویلی کو تو مسمار نہ ہونے دیجے
گفتگو میں بھی رہے حسن تکلم کا خیال
اور لہجے کو بھی تلوار نہ ہونے دیجے
وقت سے قیمتی دنیا میں کوئی چیز نہیں
کوئی پل زیست کا بیکار نہ ہونے دیجے
خامشی نصرؔ ہے دراصل ذہانت کی دلیل
اپنے حالات کو اخبار نہ ہونے دیجے