M. Nasrullah Nasr

ایم ۔ نصراللہ نصر

ایم ۔ نصراللہ نصر کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہے

    کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہے سفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہے رقابت کا سبب بنتا ہے اکثر روز کا ملنا ذرا سی بات پہ ملنا ملانا چھوٹ جاتا ہے بہت افسوس ہوتا ہے ضعیفی میں بزرگوں کو جواں بیٹے کا جب مضبوط شانہ چھوٹ جاتا ہے یہی دستور فطرت ہے خزاں کے دور میں اکثر شجر کے ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعد لوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعد عقل حیران ہے اس شخص کی دانائی پر جس نے توڑے کئی اصنام ہیں اصنام کے بعد دن گزر جاتا ہے ہنگامۂ دنیا میں مگر چین آتا ہے کہاں مجھ کو سر شام کے بعد جو ابھی شہرت و دولت میں ہوا ہے اندھا ہوش میں آئے گا لیکن برے ...

    مزید پڑھیے

    جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے

    جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے چمن میں باد مخالف چلے خدا نہ کرے تمام عمر گزاری ہے غم کی راہوں میں دراز عمر ہو میری کوئی دعا نہ کرے ہزار ضبط کا عادی ہے دل مرا لیکن ستم کی بارشیں حد سے کوئی سوا نہ کرے بہت ہی تلخ ہیں یادیں ہمارے ماضی کی پھر آئے درد کا موسم وہی خدا نہ کرے ہیں اس کے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے

    دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجے خود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجے فاقہ کر لیجئے اس شہر جفا میں لیکن خم انا کی کبھی دستار نہ ہونے دیجے جس کی تعمیر میں اسلاف کا خوں شامل ہو اس حویلی کو تو مسمار نہ ہونے دیجے گفتگو میں بھی رہے حسن تکلم کا خیال اور لہجے کو بھی تلوار نہ ہونے ...

    مزید پڑھیے

    کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں

    کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیں درد مند اب سماج ہے ہی نہیں اس کو شک کی ہے ایک بیماری اور شک کا علاج ہے ہی نہیں کیا دکھائیں اسے ہم آئینہ اس کی آنکھوں میں لاج ہے ہی نہیں مسئلے حل ہوں کیسے جب ہم میں قوت احتجاج ہے ہی نہیں آج انصاف کوئی کیا پائے شاہ عادل کا راج ہے ہی نہیں ہے تعلق بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام