جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے

جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرے
چمن میں باد مخالف چلے خدا نہ کرے


تمام عمر گزاری ہے غم کی راہوں میں
دراز عمر ہو میری کوئی دعا نہ کرے


ہزار ضبط کا عادی ہے دل مرا لیکن
ستم کی بارشیں حد سے کوئی سوا نہ کرے


بہت ہی تلخ ہیں یادیں ہمارے ماضی کی
پھر آئے درد کا موسم وہی خدا نہ کرے


ہیں اس کے مکر و ریا سے سبھی یہاں واقف
وفا پرستی کا دعویٰ وہ بے وفا نہ کرے


شجر ہوں نصرؔ کسی بے گیاہ صحرا کا
ثمر کا مجھ سے کوئی شخص آسرا نہ کرے