وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہے
وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہے
بہت مشہور ہوتا جا رہا ہے
جسے تھا ناز اپنی دل کشی پر
وہ شیشہ چور ہوتا جا رہا ہے
کہاں ہجرت کرے زخمی پرندہ
بہت مجبور ہوتا جا رہا ہے
پرانا زخم جو تو نے دیا تھا
وہ اب ناسور ہوتا جا رہا ہے
ملی ہے یار اس کو کیسی شہرت
بڑا مغرور ہوتا جا رہا ہے
خوشی کا نصرؔ جو لمحہ ملا تھا
وہ اب کافور ہوتا جا رہا ہے