یہ کیا طلسم ہے
میں اپنے آپ سے اکثر سوال کرتا ہوں یہ کیا طلسم ہے کیسا عجب تماشا ہے کہ بار بار سرابوں کی سمت جاتا ہوں وہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے میں ظلمتوں کے بیاباں سے لوٹ آتا ہوں
میں اپنے آپ سے اکثر سوال کرتا ہوں یہ کیا طلسم ہے کیسا عجب تماشا ہے کہ بار بار سرابوں کی سمت جاتا ہوں وہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے میں ظلمتوں کے بیاباں سے لوٹ آتا ہوں
کل تم نے اپنے خوابوں اور خیالوں کو تصویروں میں قید کیا تھا آج تمہیں ان تصویروں نے قید کیا ہے
رات ہوئی تو خواہش کے نیزے اگ آئے رشتوں کی دیواریں ٹوٹیں سایہ سائے میں ڈوب گیا
حیرانی ہے وہ لوگ بھی تبدیلی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہیں جو کچھ کھونے کو تیار نہیں
میں سوچتا رہا لیکن نہ کوئی بھید کھلا ترے وجود کے سائے میں آگ سی کیوں ہے یہ کیسا رنگ ہے مٹی میں جذب ہو کر بھی سیاہ رات کے آنچل میں جگمگاتا ہے کہ جیسے چاند سمندر میں ڈوب جاتا ہے
یوں تو پہلے کتنی بار ملا تھا لیکن اک دن میں نے اس کی آنکھوں میں جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھ لیا تھا اور بہت حیران ہوا تھا آج ہمارے بیچ اک ایسی دیوار کھڑی ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے
تمام عمر جو پڑھتے رہے بدن کی کتاب جو کھو گئے ہیں ستارہ مثال حرفوں میں وہ لوگ روح کی خوشبو کا بھید پا نہ سکے