Khaleel Tanveer

خلیل تنویر

  • 1944

خلیل تنویر کی نظم

    یہ کیا طلسم ہے

    میں اپنے آپ سے اکثر سوال کرتا ہوں یہ کیا طلسم ہے کیسا عجب تماشا ہے کہ بار بار سرابوں کی سمت جاتا ہوں وہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے میں ظلمتوں کے بیاباں سے لوٹ آتا ہوں

    مزید پڑھیے

    قید

    کل تم نے اپنے خوابوں اور خیالوں کو تصویروں میں قید کیا تھا آج تمہیں ان تصویروں نے قید کیا ہے

    مزید پڑھیے

    رات ہوئی تو

    رات ہوئی تو خواہش کے نیزے اگ آئے رشتوں کی دیواریں ٹوٹیں سایہ سائے میں ڈوب گیا

    مزید پڑھیے

    حیرانی

    حیرانی ہے وہ لوگ بھی تبدیلی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہیں جو کچھ کھونے کو تیار نہیں

    مزید پڑھیے

    گل لاجورد

    میں سوچتا رہا لیکن نہ کوئی بھید کھلا ترے وجود کے سائے میں آگ سی کیوں ہے یہ کیسا رنگ ہے مٹی میں جذب ہو کر بھی سیاہ رات کے آنچل میں جگمگاتا ہے کہ جیسے چاند سمندر میں ڈوب جاتا ہے

    مزید پڑھیے

    فاصلہ

    یوں تو پہلے کتنی بار ملا تھا لیکن اک دن میں نے اس کی آنکھوں میں جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھ لیا تھا اور بہت حیران ہوا تھا آج ہمارے بیچ اک ایسی دیوار کھڑی ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے

    مزید پڑھیے

    خوشبو کا بھید

    تمام عمر جو پڑھتے رہے بدن کی کتاب جو کھو گئے ہیں ستارہ مثال حرفوں میں وہ لوگ روح کی خوشبو کا بھید پا نہ سکے

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2