Khaleel Tanveer

خلیل تنویر

  • 1944

خلیل تنویر کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    یہ کیسی پیاس ہے میں جسم کے سراب میں ہوں

    یہ کیسی پیاس ہے میں جسم کے سراب میں ہوں نکل کے جاؤں کدھر کیسے اضطراب میں ہوں چٹان سر پہ لیے پھر رہا ہوں صدیوں سے جنم جنم سے نہ جانے میں کس عذاب میں ہوں تو مجھ کو بھولنا چاہے تو بھول سکتا ہے میں ایک حرف تمنا تری کتاب میں ہوں میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے کئی حجاب ...

    مزید پڑھیے

    مرے وجود میں تھے دور تک اندھیرے بھی

    مرے وجود میں تھے دور تک اندھیرے بھی کہیں کہیں پہ چھپے تھے مگر سویرے بھی نکل پڑے تھے تو پھر راہ میں ٹھہرتے کیا یوں آس پاس کئی پیڑ تھے گھنیرے بھی یہ شہر سبز ہے لیکن بہت اداس ہوئے غموں کی دھوپ میں جھلسے ہوئے تھے ڈیرے بھی حدود شہر سے باہر بھی بستیاں پھیلیں سمٹ کے رہ گئے یوں جنگلوں ...

    مزید پڑھیے

    بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں

    بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں بکھر کے خاک ہوئے اک ذرا سی لغزش میں پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں وہ ہاتھ کیا ہوئے تعمیر رائیگاں نکلی مکان گر گئے موسم کی پہلی بارش میں جو قتل و خون کی آندھی چلی تو تھمتی کیا سبھی شریک تھے بستی کے لوگ سازش ...

    مزید پڑھیے

    جو اپنا غم ہے اسے آئینہ دکھاؤں میں

    جو اپنا غم ہے اسے آئینہ دکھاؤں میں بس ایک قطرے میں دریا سمیٹ لاؤں میں تری نگاہ تو خوش منظری پہ رہتی ہے تیری پسند کے منظر کہاں سے لاؤں میں جو دل کی حسرت تعمیر ہے سو اتنی ہے کہ ہو سکے تو کسی دل میں گھر بناؤں میں میں جانتا ہوں اندھیروں کی زندگی کیا ہے بجھے چراغ تو دل کا دیا جلاؤں ...

    مزید پڑھیے

    حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا

    حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا دلوں سے دھل نہ سکا وہ غبار کینہ تھا ذرا سی ٹھیس لگی تھی کہ چور چور ہوا ترے خیال کا پیکر بھی آبگینہ تھا رواں تھی کوئی طلب سی لہو کے دریا میں کہ موج موج بھنور عمر کا سفینہ تھا وہ جانتا تھا مگر پھر بھی بے خبر ہی رہا عجیب طور تھا اس کا عجب قرینہ ...

    مزید پڑھیے

تمام

17 نظم (Nazm)

    نروان

    اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا

    مزید پڑھیے

    میرا سفر

    کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں

    مزید پڑھیے

    دشمن

    اس جیون کی راہ گزر میں کیسے عمر بتاؤں چپ سادھوں تو دل میں جیسے شعلہ بھڑکا جائے بھیڑ سے ہٹ کر بات کہوں تو دیوانہ کہلاؤں سچ پوچھو تو میرا دشمن ہے میرا احساس

    مزید پڑھیے

    میرا وجود

    پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں

    مزید پڑھیے

تمام