نروان
اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا
اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا
اور جب خود سے بچھڑنے کی گھڑی آئے گی ایسا ہوگا کہ ہر اک نقش بدل جائے گا پھر لہو میں کوئی طوفان نہیں اٹھے گا درد رتیلی زمینوں میں اتر جائے گا
کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں
اس جیون کی راہ گزر میں کیسے عمر بتاؤں چپ سادھوں تو دل میں جیسے شعلہ بھڑکا جائے بھیڑ سے ہٹ کر بات کہوں تو دیوانہ کہلاؤں سچ پوچھو تو میرا دشمن ہے میرا احساس
پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں
اس نے شاید ٹھیک کہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جاؤ گے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا ہے
زندگی تشنگی کا سفر ہے جس کے دامن میں کروڑوں مہ و سال کے نقش خوابیدہ ہیں وہ پیاس کی آگ تھی جس کی خاطر یہ انساں گھنے جنگلوں میں خلاؤں کی نیلاہٹوں میں گہرے سمندر کی پہنائیوں میں بھٹکتا رہا ہے وہ جسم اور روح کی پیاس ہے جو اب تک خلاؤں کا روپ دھارے پتھروں کے سینے میں درد بن کر کاغذی ...
اگر میں اپنی خواہشوں کو بے لباس کر دوں تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے میں یہ جانتا ہوں کہ ان کے دل کا زہر سیہ پرچھائیاں بن کر ابھر آتا ہے جسے دیکھنا ان کے بس میں نہیں وہ اپنی آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں
چاہت کا پردہ رکھنا اور نفرت ظاہر کر دینا ایک ہی انداز کسی دن تم کو تنہا کر جائے گا
مدتوں بعد اسے دیکھ کے حیران ہوئے شکل بھی یاد نہ تھی نام تک بھول گئے اس کی آواز سے لیکن اسے پہچان گئے