Khaleel Tanveer

خلیل تنویر

  • 1944

خلیل تنویر کی نظم

    نروان

    اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا

    مزید پڑھیے

    میرا سفر

    کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں

    مزید پڑھیے

    دشمن

    اس جیون کی راہ گزر میں کیسے عمر بتاؤں چپ سادھوں تو دل میں جیسے شعلہ بھڑکا جائے بھیڑ سے ہٹ کر بات کہوں تو دیوانہ کہلاؤں سچ پوچھو تو میرا دشمن ہے میرا احساس

    مزید پڑھیے

    میرا وجود

    پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں

    مزید پڑھیے

    ماضی ایک عذاب

    اس نے شاید ٹھیک کہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جاؤ گے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا ہے

    مزید پڑھیے

    تشنگی

    زندگی تشنگی کا سفر ہے جس کے دامن میں کروڑوں مہ و سال کے نقش خوابیدہ ہیں وہ پیاس کی آگ تھی جس کی خاطر یہ انساں گھنے جنگلوں میں خلاؤں کی نیلاہٹوں میں گہرے سمندر کی پہنائیوں میں بھٹکتا رہا ہے وہ جسم اور روح کی پیاس ہے جو اب تک خلاؤں کا روپ دھارے پتھروں کے سینے میں درد بن کر کاغذی ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کھو چکے ہیں

    اگر میں اپنی خواہشوں کو بے لباس کر دوں تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے میں یہ جانتا ہوں کہ ان کے دل کا زہر سیہ پرچھائیاں بن کر ابھر آتا ہے جسے دیکھنا ان کے بس میں نہیں وہ اپنی آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں

    مزید پڑھیے

    سوچو تو

    چاہت کا پردہ رکھنا اور نفرت ظاہر کر دینا ایک ہی انداز کسی دن تم کو تنہا کر جائے گا

    مزید پڑھیے

    پہچان

    مدتوں بعد اسے دیکھ کے حیران ہوئے شکل بھی یاد نہ تھی نام تک بھول گئے اس کی آواز سے لیکن اسے پہچان گئے

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2