قومی زبان

پھول لٹاتے بچے

ہنستے بچے گاتے بچے جیون جوت جگاتے بچے لاکھوں سوانگ رچاتے بچے گھر بھر کو بہلاتے بچے امی کو سمجھاتے بچے ڈیڈی سے اتراتے بچے اپنے بھولے پن سے سب کی بگڑی بات بناتے بچے گھر سے پڑھنے پڑھ کے گھر کو آتے بچے جاتے بچے جیون کی سنسان ڈگر پر لاکھوں پھول لٹاتے بچے ایک خوشی کی چنگاری سے پل پل دیپ ...

مزید پڑھیے

شرارت پہ تماشا

ساتھی نے کی شرارت اور مار میں نے کھائی باجی نے کی شکایت ابو نے کی پٹائی سب گھر میں سو گئے جب وہ چپکے چپکے اٹھا آہستہ سے کچن میں چوروں کی طرح پہنچا کھرچی توے سے کالک پھر اس میں تیل ڈالا لے کر کچن سے نکلا کالک بھرا پیالہ سب نیند میں تھے کھوئے سب بے خبر تھے سوئے لایا تلاش کر کے روئی کے ...

مزید پڑھیے

افق سے جب بھی نیا آفتاب ابھرے گا

افق سے جب بھی نیا آفتاب ابھرے گا بشکل کرب برنگ عذاب ابھرے گا ہر ایک موج سمندر میں چھپ کے بیٹھ گئی اس اک یقیں پہ کبھی تو حباب ابھرے گا یہ گہری ہوتی ہوئی خامشی بتاتی ہے وہ دن قریب ہے جب انقلاب ابھرے گا ندی وہ ریت کی ہوگی جدھر بھی دیکھو گے لگے گی پیاس تو ہر سو سراب ابھرے گا میں ...

مزید پڑھیے

اے نئے دور کوئی خواب نیا لے آنا

اے نئے دور کوئی خواب نیا لے آنا ڈوبنا ہے مجھے سیلاب نیا لے آنا کوئی اب سننے کو تیار نہیں کہنہ صدا شہر آشوب میں مضراب نیا لے آنا تیرگی اتنی کہ آنکھوں کا بھی دم گھٹتا ہے ہو سکے تو کوئی مہتاب نیا لے آنا اس سے پہلے کہ تمہیں جھیل کوئی کہہ اٹھے ذہن کی ندی میں گرداب نیا لے آنا خود کو ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیے اک پھیکا پھیکا منظر ہے

جدھر بھی دیکھیے اک پھیکا پھیکا منظر ہے نظر نظر کے لیے بے بسی کا منظر ہے نہ تتلیاں ہیں نہ بھنورے نہ کوک کوئل کی بہار رت میں بھی بے منظری کا منظر ہے سزا کے بعد بھی پھرتا ہے سر اٹھائے ہوئے ادھر نہ دیکھو وہ اب بھی نفی کا منظر ہے کرن بھی پھوٹ پڑی شاخیں بھی ہوئیں خالی مگر سڑک پہ ابھی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی وادی ہے یہ کیسا اک قبیلہ ہے

یہ کیسی وادی ہے یہ کیسا اک قبیلہ ہے ہر ایک جسم سمندر کی طرح نیلا ہے تنا ہوا جو کبھی رہتا تھا کماں کی طرح اسی بدن کا ہر اک جوڑ آج ڈھیلا ہے بھلانا تم کو بہت ہی محال ہے پیارے تمہارے واسطے جذبہ جو ہے ہٹیلا ہے یہ کیسے سمجھوں کہ تم بھی ہو ہم سفر میرے تمہارے شہر کا ماحول تو رنگیلا ...

مزید پڑھیے

امید مری شہزادی تھی

امی کی محبت ملتی ہے ابو کی بھی شفقت ملتی ہے اے ماضی ترے اک دامن سے کیا کیا مجھے دولت ملتی ہے بچپن کا زمانہ تجھ میں ہے ہر لمحہ سہانا تجھ میں ہے جو خوابوں کو دستک دیتا تھا وہ عہد پرانا تجھ میں ہے ناکامی نہ یہ نا شادی تھی بے فکری تھی آزادی تھی شہزادہ تھا میں ارمانوں کا امید مری ...

مزید پڑھیے

سفر سے لوٹتے لمحوں میں

وہ جسم جس کو اندھیرے نے چاندنی میں بنا وہ جسم جس کو تراشا نہیں گیا تھا مگر وہ جسم خود ہی تراشا ہوا تھا اک پیکر وہ جسم جس کے وسیلے سے اس جزیرے کی جو سیر میں نے کبھی کی تھی بھولنا ہے عبث وہ فاصلہ کہ جو صدیوں میں طے نہیں ہوگا وہ طے ہوا تھا فقط صرف چند لمحوں میں مری رگوں میں ابھی خون ...

مزید پڑھیے

خار ہی خار دے گلاب نہ دے

خار ہی خار دے گلاب نہ دے زندگی تو مجھے سراب نہ دے تیرے چہرے کا جس میں عکس نہ ہو مجھ کو ایسی کوئی کتاب نہ دے اب تو بستر کو نیند آ جائے اب تو تکیے کو اضطراب نہ دے اپنا ماضی بڑا بھیانک ہے شیشہ گر آئنے پہ آب نہ دے بند کر لے جو اپنی مٹھی میں ایسے ہاتھوں میں آفتاب نہ دے اپنے شہزادؔ کو ...

مزید پڑھیے

بس اک نظر سے ہی تصویر کر گیا یہ کون

بس اک نظر سے ہی تصویر کر گیا یہ کون مرے وجود کو زنجیر کر گیا یہ کون کتاب زیست پہ میں تھا بجھا ہوا اک حرف سنہرے رنگ میں تحریر کر گیا یہ کون ہے میرے جسم میں اب تک وہ لمس کی خوشبو زمین دشت کو تسخیر کر گیا یہ کون ہر ایک کوچہ ہے ساکت ہر اک سڑک ویران ہمارے شہر میں تقریر کر گیا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 860 سے 6203