قومی زبان

زمیں پہ پاؤں کہیں سر پہ آسمان نہیں

زمیں پہ پاؤں کہیں سر پہ آسمان نہیں وہ سانحہ ہے کہ جو قابل بیان نہیں تم اپنے پیچھے سراغ اپنا چھوڑ جاؤ گے کہ تم سے اچھی یہ دھرتی ہے جو چٹان نہیں جزیرے والو ہو کیوں اپنے حال پہ شاداں فضائے بحر کا ہر لمحہ با امان نہیں اس ایک لمس سے اب تک سلگ رہا ہوں میں کہ اس بدن سا کوئی اور شعلہ دان ...

مزید پڑھیے

قسمت میں نیک فال نہ کل تھا نہ آج ہے

قسمت میں نیک فال نہ کل تھا نہ آج ہے کوئی شریک حال نہ کل تھا نہ آج ہے میں بھی بدل سکا نہ مزاج اپنا آج تک اس میں بھی اعتدال نہ کل تھا نہ آج ہے اس کی جبیں پہ اس لیے پڑتی نہیں شکن دل مال یرغمال نہ کل تھا نہ آج ہے جس سے مری حیات کی بڑھ جائے تشنگی نظروں میں ایسا تال نہ کل تھا نہ آج ...

مزید پڑھیے

استعارہ ہے وہ اک تمثیل ہے

استعارہ ہے وہ اک تمثیل ہے تیرگی کے شہر میں قندیل ہے دل کشی نظاروں کی جاتی رہی وہ پرندہ ہے نہ اب وہ جھیل ہے فاختہ امن و اماں کی کیوں رہے گنبدوں کی تاک میں جب چیل ہے رنگ جیسا بھی ہو تیری جلد کا دل تو تیرا اب بھی مثل بھیل ہے پھر بھی لہجہ ہے نیا شہزادؔ کا گو کہ اس کے شعر میں ترسیل ...

مزید پڑھیے

نیا آدم

برسوں کی ریاضت کے بعد زندگی کے تمام نمایاں اصولوں کے فولاد بنتے ہوئے سے دائروں کو توڑ کر ٹھیک دل کے بیچوں بیچ ایک انچ چھید کرنے کی کامیاب ٹریننگ ہم نے لے لی ہے اور اب تو جس تھالی میں کھاتے ہیں اس میں چھید کرنے کا گر بھی ہمیں آ گیا ہے مانا کہ درندوں کے بھی شکار کرنے کے اپنے اصول ...

مزید پڑھیے

ہجرتوں کا دکھ

نیا پرانا ہو کوئی موسم تلاش جائے اماں رہے گی بہت دنوں تک دلوں کی سرحد پر پھر تشدد کی جنگ ہوگی اصول کی دھجیاں اڑیں گی گلی گلی میں قبیح لمحوں کے دیوتاؤں کا رقص ہوگا بہت دنوں تک فضا میں گرد و غبار ہوگا دھواں دھواں زندگی کی راہوں میں خار و خس کا حصار ہوگا بہت دنوں تک لہو لہو آسمان ...

مزید پڑھیے

منظر یوں تھا

شام رخصت ہو چکی تھی احساس کے تلووں کو سہلا کر کتنا سکون ملا تھا تب ننگے پاؤں گھاس پر چلنے کو بڑا دل چاہا کہ اچانک رات آئی سیاہ کفن میں اپنا منہ چھپائے اور بے ترتیب شب و روز کے درمیان ٹنگی ہوئی الگنی پر مجبور زندگی اپنے کرتب دکھلانے لگی اور رات جس طرح آسمان پر آوارہ بادلوں کے ...

مزید پڑھیے

طلسم سفر

ایک دہشت زدہ نیم تاریک جنگل میں عقل و خرد کی ضرورت نہیں شاعری اور فکشن کی پرچھائیوں کا میں پیچھا کروں اور سپنے بنوں ایسی عادت نہیں نیم تاریک جنگل کے لمبے سفر پہ جو نکلے ہو تم تو سن لو نیم تاریک جنگل میں چاروں طرف ابوالہول سے واسطہ بھی پڑے گا تمہارا کئی شکل میں ورغلائیں گی تم کو ...

مزید پڑھیے

سرابوں کا سفر

دشت امکان میں جاری ہے سرابوں کا سفر ایک صحرائے جنوں حد نظر ہے حائل شاخ زیتون پہ آواز کا پنچھی گھائل دور پازیب کی چھم چھم ہے چمکتی شے ہے رہگزر کوئی نہیں دھند کے منظر کے سوا اک تری یادوں کے سوا ہر طرف ریت کے اٹھے ہیں بگولے حاتم نقش پا کوئی نہیں خون کے قطروں کے سو اک صدی بیت گئی ایک ...

مزید پڑھیے

اظہار تشکر

ہنر مند ہاتھوں کی مٹی سے میں نے بنایا جو بہتے ہوئے پانیوں پہ مکاں تو سچ یہ زمانے کو کڑوا لگا میں کہ مزدور تھا ایک مجبور تھا کوئی نایاب گوہر نہ تھا میں کہ آذر نہ تھا یہ تو اچھا ہوا اے خدا تو نے رکھیں سلامت مری انگلیاں

مزید پڑھیے

نیا لہجہ غزل کا مصرع ثانی میں رکھا ہے

نیا لہجہ غزل کا مصرع ثانی میں رکھا ہے ہوا کو مٹھیوں میں آگ کو پانی میں رکھا ہے نہ جانے کیا سمجھ کر چکھ لیا تھا دانۂ گندم ابھی اک بھول نے اب تک پشیمانی میں رکھا ہے وطن سے دور ہوں میں رزق کی خاطر مرے مولا مگر بستی کو تیری ہی نگہبانی میں رکھا ہے سفر میں بھی ڈرامائی عناصر کام آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 861 سے 6203