کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے
کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے اگرچہ دیتا رہا میں صدا سلیقے سے ملی ہے داد مجھے اپنی سخت جانی کی گزر گیا ہے ہر اک حادثہ سلیقے سے دعائیں دیتا ہوں اب تک میں ان کے جلووں کو جنہوں نے آنکھوں کو بخشی سزا سلیقے سے بوقت نزع تبسم تھا میرے ہونٹوں پر یوں میرے سامنے آئی قضا سلیقے سے لگا ...