قومی زبان

کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے

کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے اگرچہ دیتا رہا میں صدا سلیقے سے ملی ہے داد مجھے اپنی سخت جانی کی گزر گیا ہے ہر اک حادثہ سلیقے سے دعائیں دیتا ہوں اب تک میں ان کے جلووں کو جنہوں نے آنکھوں کو بخشی سزا سلیقے سے بوقت نزع تبسم تھا میرے ہونٹوں پر یوں میرے سامنے آئی قضا سلیقے سے لگا ...

مزید پڑھیے

بہت دشوار رستہ ہو گیا ہے

بہت دشوار رستہ ہو گیا ہے سفر اب جستہ جستہ ہو گیا ہے انا جھکنے نہیں دیتی تھی جس کو وہی اب دست بستہ ہو گیا ہے تمہارا چاہنے والا ہوں میں بھی مرا دل بھی شکستہ ہو گیا کہاں لے آئی ہے بونوں کی صحبت ہمارا قد بھی پستہ ہو گیا ہے کبھی وہ صاحب اسلوب ہوگا جو اب لہجے سے خستہ ہو گیا ہے جناب ...

مزید پڑھیے

دامن کی پناہوں سے مکر کیوں نہیں جاتے

دامن کی پناہوں سے مکر کیوں نہیں جاتے آنسو مری پلکوں پہ ٹھہر کیوں نہیں جاتے ہم لوگ ازل سے ہیں اسیر شب ظلمت تم چاند ہو تو چاند نگر کیوں نہیں جاتے بچوں کے مسائل ہیں مہاجن کے تقاضے یہ ہم ہی سمجھتے ہیں کہ گھر کیوں نہیں جاتے کیوں کرتے ہو اقرار بھی انکار کی صورت اوروں کی طرح صاف مکر ...

مزید پڑھیے

دل میرا فقط تیرے نشانے کے لئے ہے

دل میرا فقط تیرے نشانے کے لئے ہے اور اس کے سوا جو ہے زمانے کے لئے ہے ہنسنے کے لئے ہے نہ ہنسانے کے لئے ہے یہ انجمن ناز جلانے کے لئے ہے ہر شخص کی آنکھوں میں مسائل کے ہیں آنسو ہونٹوں پہ ہنسی صرف دکھانے کے لئے ہے اس کا کبھی مثبت کوئی پہلو نہیں نکلا جو تم سے تعلق ہے نبھانے کے لئے ...

مزید پڑھیے

فتنۂ شمس و قمر سے نکلے

فتنۂ شمس و قمر سے نکلے حلقۂ شام و سحر سے نکلے کیا کہیں کتنے شرر کتنے گل میرے دامان ہنر سے نکلے ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہ رہی ہم دعاؤں کے اثر سے نکلے کتنے طوفان رہے دل میں نہاں کتنے انداز نظر سے نکلے وہ بھی آنگن میں کھڑا کانپتا تھا ہم بھی سہمے ہوئے گھر سے نکلے سامنے برف کی دیوار ...

مزید پڑھیے

بلا سے گر رہے یہ ناشنیدہ

بلا سے گر رہے یہ ناشنیدہ مری مانو لکھو اپنا قصیدہ شب غم کاٹنے والوں سے پوچھو ہے کتنی شوخ صبح نودمیدہ کرو گے تم اسے نذر جنوں کیا قبائے زندگی خود ہے دریدہ سنبھلنا اور بھی دشوار ہوگا مجھے کہتی ہے دنیا برگزیدہ

مزید پڑھیے

یہ جن پر چل رہے ہیں اہل جادہ

یہ جن پر چل رہے ہیں اہل جادہ ہے میرے نقش پا سے استفادہ تمہاری جیب میں لطف یقیں ہے مرے کشکول میں ہے صرف وعدہ وہ چاہے جب ہمیں اذن سفر دے کئے بیٹھے ہیں ہم پکا ارادہ اجازت ہو تو تیرا نام لکھ دوں کتاب دل کا اک صفحہ ہے سادہ غزل خواں ہو رہا ہے وہ کہ جو ہے غزل کی سلطنت کا ...

مزید پڑھیے

رہین دست آذر ہو گیا ہوں

رہین دست آذر ہو گیا ہوں میں آئینہ تھا پتھر ہو گیا ہوں مرا تو کام قطرے سے بھی چلتا تری خاطر سمندر ہو گیا ہوں جو باطن ہے وہی ظاہر ہے میرا کچھ ایسا صاف منظر ہو گیا ہوں کئی جہتوں سے ہے یلغار مجھ پر تن تنہا میں لشکر ہو گیا ہوں چلے ہیں ساتھ ہی گھر کے مسائل کبھی جب گھر سے باہر ہو گیا ...

مزید پڑھیے

منافقت کا ہر امکان ڈھا کے نکلے تھے

منافقت کا ہر امکان ڈھا کے نکلے تھے جو گھر کی آگ سے دامن بچا کے نکلے تھے لہولہان ہوئے یوں کہ کھو گئی پہچان ہم اپنے چہرے پہ وعدے سجا کے نکلے تھے نگاہ اہل ہوس کس لئے ہوئی خاموش کچھ آستین میں ہم بھی چھپا کے نکلے تھے خدا ہی جانے جبینوں پہ نور سا کیوں تھا وہ کون تھے جو گھر اپنا لٹا کے ...

مزید پڑھیے

میں حد لا مکانی چاہتا ہوں

میں حد لا مکانی چاہتا ہوں یہ کیسی سرگرانی چاہتا ہوں تری آنکھوں میں پانی چاہتا ہوں بس اتنی مہربانی چاہتا ہوں جسے سنتے ہی سو جاتے تھے بچے وہی بھولی کہانی چاہتا ہوں یہ ہے میری طبیعت کا تقاضا ہر اک پل امتحانی چاہتا ہوں نہیں لگتا مرا اب شہر میں جی حقیقت داستانی چاہتا ہوں کئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 831 سے 6203