قومی زبان

ہے جھلک اس میں استعارے کی

ہے جھلک اس میں استعارے کی شکل پہچانئے ستارے کی نام آتا ہے بار بار مرا بات چلتی ہے جب خسارے کی ساتھ سورج کے ڈوب جاتا ہے ہائے رے بے بسی نظارے کی کتنی بیساکھیاں تھیں میرے لئے جب ضرورت نہ تھی سہارے کی اب ہوا میرا سر جدا تن سے اک ذرا دیر تھی اشارے کی کیا یہ ممکن نہیں کہ طوفاں ...

مزید پڑھیے

دھرتی سے آکاش میں چھانے والی تو

دھرتی سے آکاش میں چھانے والی تو دریاؤں کی پیاس بجھانے والی تو میں خواہش کی برف پگھلنے کا منظر میرے بدن میں آگ لگانے والی تو دن بھر سورج آنکھ میں بھرنے والا میں شب بھر رنگیں خواب سجانے والی تو میں تقدیر کا مارا اپنے حال پہ خوش تدبیروں سے کام چلانے والی تو صحرا صحرا دھوم مچانے ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ اس سے ہے واسطہ دل کا

یہ اور بات کہ اس سے ہے واسطہ دل کا جو آ گیا تو عجب حال ہو گیا دل کا جو چاہے دیکھنا دیکھے وہ باطنی تصویر اٹھائے ہاتھ میں پھرتا ہوں آئنہ دل کا سکوں ملے تو فسردہ ہو اضطراب تو خوش سمجھ سکا نہ کوئی بھی معاملہ دل کا اب آخر ایسے مسافر کو کیا کہا جائے جو پوچھتا ہے ہر اک گام فیصلہ دل ...

مزید پڑھیے

کون ہوں کیا ہوں بتاتی نہیں صورت میری

کون ہوں کیا ہوں بتاتی نہیں صورت میری آئنے میں بھی ہے روپوش حقیقت میری برف سی یوں تو جمی رہتی ہے ہونٹوں پہ مگر شعلہ بن جاتی ہے آنکھوں میں صداقت میری دستکیں شور میں تبدیل ہوں اس سے پہلے کاش لے جائے کوئی مجھ سے سماعت میری یہ بھی موسم کا تقاضا ہے کہ غنچہ کی طرح ہر نئی شاخ پہ کھل ...

مزید پڑھیے

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے تم ہم سے پوچھتے ہو کیا کہ ہم نے بہت سا کام نظروں سے لیا ہے بہت گرمی پڑی اب کے برس بھی مئی اور جون مشکل میں جیا ہے رفو آنچل پہ تیرے ہے تو سن لے گریباں چاک ہم نے بھی سیا ہے تمہاری گفتگو بتلا رہی ہے کسی سے عشق تم نے بھی کیا ...

مزید پڑھیے

ایک آسیب کا سایہ تھا جو سر سے اترا

ایک آسیب کا سایہ تھا جو سر سے اترا جیسے اک طائر منحوس شجر سے اترا یوں لگا جیسے گرانباریٔ شب ختم ہوئی غازۂ کذب و ریا روئے سحر سے اترا اپنا گھر بھی مجھے زنداں کی طرح لگتا تھا زنگ آلود سا تالا مرے در سے اترا شاید اب تلخ حقائق سے شناسائی ہو کور چشمی کا یہ پردہ سا نظر سے اترا غم کا ...

مزید پڑھیے

جو رخ پہ ڈالے ہوئے وہ نقاب نکلے گا

جو رخ پہ ڈالے ہوئے وہ نقاب نکلے گا اک انقلاب پس انقلاب نکلے گا ابھی تک اوڑھے ہوئے ہوں میں برف کی چادر ہے انتظار ابھی آفتاب نکلے گا سفر کے ساتھ شعور سفر ضروری ہے قدم قدم پہ نیا اک سراب نکلے گا چبھن جو ہوتی ہے تم کو تو دیکھنا اک دن ہر ایک لفظ ہمارا گلاب نکلے گا اگر تلاش کرو گے ...

مزید پڑھیے

پڑی وہ زد کہ نگاہوں کا حوصلہ ٹوٹا

پڑی وہ زد کہ نگاہوں کا حوصلہ ٹوٹا تمہارے عکس کی جھلمل سے آئنہ ٹوٹا زمین شق ہوئی آنکھوں میں بھر گیا سورج ہمارے سر پہ اچانک وہ حادثہ ٹوٹا گجر کا شور اذاں کی پکار کیا کہئے خدا سے میرے تکلم کا سلسلہ ٹوٹا ہماری فکر حد آسماں سے آگے تھی مگر کبھی نہ روایت سے واسطہ ٹوٹا تغیرات کی رو کب ...

مزید پڑھیے

جس طرح بھی برسر پیکار ہونا تھا ہوئے

جس طرح بھی برسر پیکار ہونا تھا ہوئے زندگی کا ہم کو دعوے دار ہونا تھا ہوئے تیرے جلوؤں تک رسائی کے لئے آنکھیں نہ تھیں پھر بھی تیرا طالب دیدار ہونا تھا ہوئے دشمنی کے نام پر تو ہو چکا میدان صاف دوستوں کو بیچ کی دیوار ہونا تھا ہوئے یوں تو سب کو اعتماد اپنے پروں پر تھا مگر جن پرندوں ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں کہ خواب آنکھ میں ہو آنکھ سو نہ جائے کہیں میں جانتا ہوں بہت روز وہ نہ ٹھہرے گا مگر اس عرصے میں وہ زہر بو نہ جائے کہیں جو ایک عکس بنایا تھا پچھلی بارش نے وہ شکل اب کے سے برسات دھو نہ جائے کہیں اسے یہ شکوہ کہ میں نے نہ پوچھا حال اس کا مجھے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 832 سے 6203