مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہے
مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہے خزاں سے بڑھ کے گلوں پر ستم بہار کا ہے جب آئے ہوش نہ تھا کس نگر سے آئے ہیں چلے تو علم نہیں قصد کس دیار کا ہے بیاں یہی سر منبر کریں گے پھر نکتہ ہمارے واسطے جس پر یہ حکم دار کا ہے ہر ایک ذرے کو ہے آفتاب کی توفیق ہر ایک بوند میں امکان آبشار کا ہے اگر ...