قومی زبان

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے حوصلے دل ہی دل میں مچلتے رہے دوستوں نے تو کانٹے بچھائے بہت مسکراتے ہوئے ہم بھی چلتے رہے کوئی پھولوں سے دامن کو بھر لے گیا ہم کھڑے باغ میں ہاتھ ملتے رہے اس کی بھرپور الھڑ جوانی پہ ہم مسکراتے سسکتے مچلتے رہے راستے منزلیں دور ہوتی گئیں میری فطرت ...

مزید پڑھیے

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ وفور غم میں کمی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نتیجہ جہد مسلسل کا آگے کیا ہوگا محل فکر یہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ کشاکش غم دوراں میں زندہ رہنے کی تمہی سے داد ملی ہے ذرا ٹھہر جاؤ یہ بات تم سے کوئی اور کہہ نہیں سکتا یہ بات دل نے کہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ تمہارے جانے کے احساس ...

مزید پڑھیے

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں دور کی روشنی سے ڈرتا ہوں دیکھ کر بستیوں کی ویرانی اب تو ہر آدمی سے ڈرتا ہوں عقل تاروں کو چھو کے آتی ہے اور میں چاندنی سے ڈرتا ہوں پہلے ڈرتا تھا تیرگی سے میں اور اب روشنی سے ڈرتا ہوں میری بے چارگی تو یہ بھی ہے آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں یہ بھی اک پھانس بن ...

مزید پڑھیے

اس لئے میں جرم مے نوشی پر آمادہ نہ تھا

اس لئے میں جرم مے نوشی پر آمادہ نہ تھا لمس ساقی کے لبوں کا شامل بادہ نہ تھا جس پہ گل بوٹے نہ تھے اس پر منقش تھے خدنگ زیست کی ارژنگ کا کوئی ورق سادہ نہ تھا اب تمنا گاہ کیوں ویران ہے اس کے بغیر میں کبھی سنجیدگی سے جس کا دل دادہ نہ تھا میرے دل میں بھی تھے ابرو اور آنچل جا بہ جا کس ...

مزید پڑھیے

میں چلا جاؤں گا رہ جائے گا افسانہ مرا

میں چلا جاؤں گا رہ جائے گا افسانہ مرا ذکر کرتے ہی رہیں گے سب حریفانہ مرا مے مجھے ممنوع ساغر دسترس سے دور ہے اور فرماتا ہے ساقی ہے یہ مے خانہ مرا اب تو جانا ہی نہیں ہوتا ہے وعدہ گاہ میں مدتوں تک یہ رہا معمول روزانہ مرا کھینچتا ہے کون سا احساس اب اس کی طرف ہو چکا ہے جس سے یکسر قلب ...

مزید پڑھیے

دھڑکن سا کوئی دل میں سوا بول رہا ہے

دھڑکن سا کوئی دل میں سوا بول رہا ہے اس ساز میں خود نغمہ سرا بول رہا ہے کھلتا ہی نہیں تیرا طلسم لب و لہجہ کیا جانیے خاموش ہے یا بول رہا ہے ہر شخص نہیں دار کا شائستہ وگرنہ ہر شخص کے پردے میں خدا بول رہا ہے یہ لفظ کہ چڑھ کر ہوا تھا گنگ زباں پر کاغذ پر اتارا ہے تو کیا بول رہا ہے یہ وہ ...

مزید پڑھیے

پھول سے ڈھلکا ہوا اوس کا قطرہ ہوں میں

پھول سے ڈھلکا ہوا اوس کا قطرہ ہوں میں شاخ سے ٹوٹ کے گرتا ہوا پتا ہوں میں چھوڑ کے چل دیا ہے جیسے بدن ہی مجھ کو جس کی پہچان نہیں کوئی وہ سایہ ہوں میں جو کہ در آیا تھا روزن سے کرن کے ہم راہ تیرے کمرے میں وہ بے فائدہ ذرہ ہوں میں وادیٔ و کوہ و بیاباں سے گزر کر آخر شہر میں آ کے جو کھو ...

مزید پڑھیے

نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے

نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے اس اعتبار سے درد فراق راس تو ہے اثر پذیر بھی ہو گر نہیں ہے یہ مقدور مری بساط میں اک عرض التماس تو ہے یہ شہر چھوڑ کے جانے کو جی نہیں کرتا وہ میرے پاس نہیں میرے آس پاس تو ہے بظاہر اس کے تر و تازہ ہونٹ جو بھی کہیں بجھا نہ پائے جو پانی انہیں وہ ...

مزید پڑھیے

اب ہے اس درجہ پریشانی کیوں

اب ہے اس درجہ پریشانی کیوں دل کی ضد تھی نہ بجا مانی کیوں دل آوارہ منش کے ہم راہ عقل ہو جاتی ہے دیوانی کیوں عشق صادق کی اگر قلت ہے حسن کی ہے یہ فراوانی کیوں آپ جب آ گئے جان رونق ہے بدستور یہ ویرانی کیوں نفسیات اس کی بتاؤ شوکتؔ فن یہ اس درجہ ہے نفسانی کیوں

مزید پڑھیے

یوسف کی طرح کیوں کوئی بازار میں آئے

یوسف کی طرح کیوں کوئی بازار میں آئے جو نرخ بھی اب طبع خریدار میں آئے ملتی ہی نہیں قید تمنا سے رہائی ہم کس قفس بے در و دیوار میں آئے بن بن کے سوانح مری ہر واقعہ گزرا سب لوگ سمٹ کر مرے کردار میں آئے وہ عشق نہیں ہے کہ ہویدا ہو نظر سے اخلاص کہاں معرض اظہار میں آئے بندوں کے تصرف میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 783 سے 6203