قومی زبان

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے راستے خود ہی بدل جائیں تو بدلیں ورنہ چلنے والے کبھی رفتار نہیں بدلیں گے دور تک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی کیا مرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے میں سمجھتا ہوں ستارے جو سحر سے پہلے بجھنے والے ہیں شب تار نہیں بدلیں ...

مزید پڑھیے

لٹیرا ہے مگر وہ راہبر ہے

لٹیرا ہے مگر وہ راہبر ہے ہمارے مال پر اس کی نظر ہے مرا حق وہم کے زمرے میں آیا ترا شک بھی حدیث معتبر ہے وہ جو کہتا تھا وہ کرتا نہیں تھا جو اس کے دل میں ہے کس کو خبر ہے بہت ہے اس کی خواہش اس کو روکے مگر مہلت نہایت مختصر ہے مکاں ملتا نہیں ہے شہر بھر میں ادھر گاؤں میں خالی میرا گھر ...

مزید پڑھیے

یوں تو پچھلے سال کا موسم بھی کچھ اچھا نہ تھا

یوں تو پچھلے سال کا موسم بھی کچھ اچھا نہ تھا زہر بستی کی فضا میں اس قدر پھیلا نہ تھا اس قدر سرخی نہ تھی رنگ شفق میں دوستو آسماں کا رنگ پہلے یوں کبھی گدلا نہ تھا میں نہ کہہ پایا تو کیا تجھ سے نہ بن پایا تو کیا میں نہ تھا کوئی بھکاری تو کوئی داتا نہ تھا رات دن کی سرحدوں میں اب نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی لہو سے کہیں مسمار نہ ہونا

اپنے ہی لہو سے کہیں مسمار نہ ہونا دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہونا گمنام ہی رہنے میں بڑا نام ہے پیارے شہرت کے لیے داخل دربار نہ ہونا اے میرے خدا قید ہوں میں کیسے جہاں میں گویائی تو ہونا دم گفتار نہ ہونا بازار ہو گر مصر کا بولی تو لگانا یوسف کو جو چاہو تو خریدار نہ ہونا اوروں سے ...

مزید پڑھیے

تو نے کوئی بات میری آج تک مانی نہیں

تو نے کوئی بات میری آج تک مانی نہیں تیری جانب سے مجھے کوئی پریشانی نہیں دل میں داخل ہے ہجوم خد و خال دو جہاں اس لیے کوئی بھی صورت ہم سے انجانی نہیں عرش کا کچھ رابطہ تو فرش والوں سے بھی ہے عشق لا فانی ہے عاشق بھی مگر فانی نہیں ڈھونڈنے سے مل تو جاتی ہے یہ گم گشتہ کتاب ورنہ دنیا میں ...

مزید پڑھیے

ایک عرصے کی مشقت رائیگاں ہونے کو ہے

ایک عرصے کی مشقت رائیگاں ہونے کو ہے پھر کوئی سازش ہمارے درمیاں ہونے کو ہے یا سرک جانے کو ہے پیروں کے نیچے سے زمیں یا ہمارے سر سے رخصت آسماں ہونے کو ہے ٹوٹنے والا ہے اب کے بے نیازی کا طلسم وہ خفا ہونے کو ہے یا مہرباں ہونے کو ہے دامن دل سے لپٹ کے رہ گئی ہے زندگی یہ گلے کا طوق ہے اب ...

مزید پڑھیے

خزاں کا دکھ بھی نہیں جشن رنگ و بو بھی نہیں

خزاں کا دکھ بھی نہیں جشن رنگ و بو بھی نہیں میں تیرہ بخت نہیں ہوں تو سرخ رو بھی نہیں وہ پاس تھا تو کسی ماسوا کا ذکر نہ تھا وہ جا چکا ہے تو اب اس کی گفتگو بھی نہیں یہ کس مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے غم زماں بھی نہیں عزم جستجو بھی نہیں مرے نصیب میں کتنے عجیب رہبر تھے امامتیں بھی ...

مزید پڑھیے

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے اب یہاں انسانیت کے مقبرے رہ جائیں گے ہونٹ سی دے گا تو ہاتھوں کو زباں مل جائے گی ضابطے تیرے سبھی کے سب دھرے رہ جائیں گے گر تری مردم شناسی کی یہی حالت رہی تیرے چاروں اور سارے مسخرے رہ جائیں گے شہر والوں کو امیر شہر جل دے جائے گا دل میں نفرت ...

مزید پڑھیے

مرا زاد قیامت کچھ نہیں ہے

مرا زاد قیامت کچھ نہیں ہے بجز اشک ندامت کچھ نہیں ہے کوئی تو پھول پھینکے میری جانب کہ یہ سنگ ملامت کچھ نہیں ہے زمانہ آ گیا ہے کچھ نیا سا بزرگی اور قدامت کچھ نہیں ہے بہت ہوں گے ابھی آثار ظاہر مرض کی اک علامت کچھ نہیں ہے مقابل آفتاب احمدؔ بہت ہیں ترا تو قد و قامت کچھ نہیں ہے

مزید پڑھیے

یہ چپ سے خوب صورت لوگ اکثر

یہ چپ سے خوب صورت لوگ اکثر کہ دے جاتے ہیں دل کا روگ اکثر زمیں پر کیوں ملن ہونے نہ پایا اگر اوپر ہوئے سنجوگ اکثر ہمارا ہاتھ یوں اس نے بٹایا چگی اس نے ہماری چوگ اکثر وہ جن کو موت کی پروا نہیں ہے انہیں ملتا ہے جیون جوگ اکثر یہ کیسی زندگی تھی جینے والو منایا ہم نے جس کا سوگ اکثر

مزید پڑھیے
صفحہ 5641 سے 6203