قومی زبان

مجھ کو منظر کے صلے میں وہ صدا بھیجتا ہے

مجھ کو منظر کے صلے میں وہ صدا بھیجتا ہے خوب وہ قرض مرا کر کے ادا بھیجتا ہے سر پرستی بھی وہ کرتا ہے زبردستی سے درد کرتا ہے عطا اور دوا بھیجتا ہے میرے دشمن کی ہے تلوار مری گردن پر اور تو ہے کہ مجھے حرف دعا بھیجتا ہے سانپ جب جھوٹ کے دنیا میں بہت ہو جائیں دست موسیٰ میں خدا سچ کا عصا ...

مزید پڑھیے

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے دن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے یاروں سے ہم وقت بلا میں آنکھیں پھیر تو لیتے ہیں لیکن اک انجانا سا دکھ دل میں پلتا رہتا ہے نظریں خیرہ کر دیتی ہے ایک جھلک لیلاؤں کی اور پھر انساں پورا جیون آنکھیں ملتا رہتا ہے مفت کا روگ نہ ...

مزید پڑھیے

ستم کو رحم دھوکے کو بھروسہ پڑھ نہیں سکتا

ستم کو رحم دھوکے کو بھروسہ پڑھ نہیں سکتا برے کو میں برا کہتا ہوں اچھا پڑھ نہیں سکتا کمی شاید میری کچھ تربیت میں رہ گئی ہوگی کہ شب کی تیرگی کو میں اجالا پڑھ نہیں سکتا نظر نزدیک کی میری بہت کمزور ہے شاید اسی خاطر تو میں چہروں کو پورا پڑھ نہیں سکتا بہت کچھ پڑھ بھی سکتا ہوں پڑھائے ...

مزید پڑھیے

بہتر نہیں رہا کبھی کمتر نہیں رہا

بہتر نہیں رہا کبھی کمتر نہیں رہا میں زیست میں کسی کے برابر نہیں رہا دشت فراق دھوپ غضب کی سفر نصیب سایہ بھی اس کی یاد کا سر پر نہیں رہا اس عہد سخت گیر میں یہ چھوٹ ہے بہت باہر پھرا ہے تو کبھی اندر نہیں رہا آزاد ہو گیا ہوں حکومت کی قید سے اس ملک میں مرا کوئی دفتر نہیں رہا میں ہوں ...

مزید پڑھیے

اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام

اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام ڈگمگاتی ہوئی ہر گام سنبھلتی ہوئی شام خواب گاہوں سے ادھر خواب میں چلتی ہوئی شام گوندھ کر موتیے کے ہار گھنی زلفوں میں عارض و لب پہ شفق سرخیاں ملتی ہوئی شام اک جھلک پوشش بے ضبط سے عریانی کی دے گئی دن کے نشیبوں ...

مزید پڑھیے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے ایک انائے بے چہرہ کے بدلے میں چلیے کچھ مشہوری تو ہو جاتی ہے دل اور دنیا دونوں کو خوش رکھنے میں اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے لفظوں میں خالی جگہیں بھر لینے سے بات ادھوری، پوری تو ہو جاتی ہے جذبہ ہے جو روز کے زندہ رہنے ...

مزید پڑھیے

شکست

بالکنی سے باہر جھانکا آئینے میں صورت دیکھی لپ اسٹک سے ہونٹ سنوارے اپنی گھڑی کو جھوٹا سمجھا باہر آ کر وقت ملایا وقت کو بھی جب سچا پایا غصے میں دانت اپنے پیسے ریشم جیسے بال کھسوٹے سارے خط چولھے میں جھونکے آئینے پر پتھر مارا اتنے میں پھر آہٹ پائی دوڑی دوڑی باہر آئی لیکن خود کو تنہا ...

مزید پڑھیے

آخری سفر

مستقبل کی جھولی میں ہم گرتے رہیں گے دانہ دانہ ماضی کی لمبی ڈوری سے کٹتے رہیں گے لمحہ، لمحہ آخر اک دن دھاگے میں بکھرے دانے ٹوٹے لمحوں کا ہار پرو کر طاق میں تم سب رکھ دوگے!

مزید پڑھیے

یادیں

رات کے گہرے سناٹے میں میں گھر کے آنگن میں تنہا چاند کو کب سے دیکھ رہا ہوں دل کی دیواروں کو کب سے غم کی دیمک چاٹ رہی ہے ذہن کے لمبے سے کمرے میں میرے ماضی کی الماری جس کے دونوں ہی در وا ہیں غور سے مجھ کو دیکھ رہی ہے جی میں یہ آتا ہے میرے ماضی کی اس الماری سے جس میں بری بھلی سب ...

مزید پڑھیے

تضاد

زمین گھومتی ہے روز اپنے محور پر فلک کھڑا ہے اسی طرح سر اٹھائے ہوئے دنوں کے پیچھے لگی ہیں اسی طرح راتیں سفر ہے جاری اسی طرح اب بھی لمحوں کا ہوا کے دوش پہ خوشبو کے قافلے اب بھی رتیں بدلنے کا پیغام لے کے آتے ہیں ہمارے بیچ مگر فاصلے جو قائم ہیں کسی طرح نہیں کم ہوتے بڑھتے جاتے ہیں!

مزید پڑھیے
صفحہ 5642 سے 6203