قومی زبان

چاند سلطانہ

اخوت کے پرستاروں کی اک رنگین دنیا تھی حریم نور و نغمہ بزم ناہید و ثریا تھی وہ دنیا شمع آزادی کے پروانوں کی بستی تھی جہاں فطرت سنورتی تھی جہاں مستی برستی تھی وہ دنیا زندگی کے پھول برساتی ہوئی دنیا ملائم نزہتوں کی رقص فرماتی ہوئی دنیا جہاں اک سانس بھی لینے سے گھبراتے تھے ...

مزید پڑھیے

خون تمنا

جل چکی شاخ نشیمن تھم چکی باد سموم اب ہوائے نو بہاراں کوثر افشاں ہے تو کیا کر چکی خون تمنا تیرگیٔ شام غم آسماں پر اب نیا سورج درخشاں ہے تو کیا جام افسردہ صراحی سرنگوں مینا خموش میکدے میں اب ہجوم مے گساراں ہے تو کیا دور ہو سکتا نہیں اے دوست قرنوں کا سکوت زندگی اب اپنے بربط پر غزل ...

مزید پڑھیے

خانہ بدوش

شاخوں پہ سرخ و زرد شگوفے ہیں محو خواب خواب گراں سے جاگنے والا ہے آفتاب گیسو کھلے ہوئے ہیں عروس بہار کے شانے ہلا رہی ہے صبا لالہ زار کے ویران ہو چلی ہے ستاروں کی انجمن دامان کوہسار میں جیسے ہیں خیمہ زن وہ لوگ پیکر غم و حرماں کہیں جنہیں بیتابیوں کے روپ میں انساں کہیں جنہیں ہر سانس ...

مزید پڑھیے

میں حرف ابتدا ہوں

میں حرف ابتدا ہوں مسلسل اک صدا ہوں سحر کی آرزو میں کہاں تک آ گیا ہوں تخیل ہوں اسی کا میں جس کا نقش پا ہوں زمانہ دیکھتا ہے میں جس کو دیکھتا ہوں مجھے یہ ہوش کب ہے برا ہوں یا بھلا ہوں اسے سلجھاؤں کیسے میں خود الجھا ہوا ہوں

مزید پڑھیے

وہ نظر مہرباں اگر ہوتی

وہ نظر مہرباں اگر ہوتی زندگی اپنی معتبر ہوتی نفرتوں کے طویل صحرا میں ان کی چاہت تو ہم سفر ہوتی اے شب غم مرے مقدر کی تیرے دامن میں اک سحر ہوتی لمحہ لمحہ اذیتیں ہیں جہاں یاد ہی ان کی چارہ گر ہوتی ان سے منسوب ہو گئے ورنہ زندگی کس طرح بسر ہوتی ہم ہی آغازؔ گرم صحرا تھے زلف کیا سایۂ ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلنا جب مری تقدیر ہو گیا

گھر سے نکلنا جب مری تقدیر ہو گیا اک شخص میرے پاؤں کی زنجیر ہو گیا اک حرف میرے نام سے دیوار شہر پر یہ کیا ہوا کہ رات میں تحریر ہو گیا میں اس کو دیکھتا ہی رہا اس میں ڈوب کر وہ تھا کہ میرے سامنے تصویر ہو گیا وہ خواب جس پہ تیرہ شبی کا گمان تھا وہ خواب آفتاب کی تعبیر ہو گیا میں تو ...

مزید پڑھیے

بے حسی انسان کا حاصل نہ ہو

بے حسی انسان کا حاصل نہ ہو دوستی ہو ریت کا ساحل نہ ہو میں تو بس یہ چاہتا ہوں وصل بھی دو دلوں کے درمیاں حائل نہ ہو مجھ کو تنہا چھوڑنے والے بتا کیا کروں جب دل تری محفل نہ ہو کس طرح میری زباں تک آئے گا حرف جو سچائی کا حامل نہ ہو یہ زمانہ چاہتا ہے آج بھی خون دل تحریر میں شامل نہ ...

مزید پڑھیے

دل تھا کہ غم جاں تھا

دل تھا کہ غم جاں تھا میں خود سے پشیماں تھا میں نے اسے چاہا تو وہ مجھ سے گریزاں تھا فطرت کے اشارے پر جو نقش تھا رقصاں تھا حالات کے ہاتھوں میں کیوں میرا گریباں تھا کل میرے تصرف میں اک عالم امکاں تھا میں خود سے چھپا لیکن اس شخص پہ عریاں تھا کیوں شہر نگاراں میں آغاز پریشاں تھا

مزید پڑھیے

دور سے کیا مسکرا کر دیکھنا

دور سے کیا مسکرا کر دیکھنا دل کا عالم دل میں آ کر دیکھنا خود کو گر پہچاننا چاہو کبھی مجھ کو آئینہ بنا کر دیکھنا قد کا اندازہ تمہیں ہو جائے گا اپنے سائے کو گھٹا کر دیکھنا میں اندھیرے اوڑھ کر سو جاؤں گا تم اجالوں میں سما کر دیکھنا شام کا منظر حسیں ہو جائے گا ہاتھ پہ مہندی لگا کر ...

مزید پڑھیے

اگر کچھ اعتبار جسم و جاں ہو

اگر کچھ اعتبار جسم و جاں ہو ابھی کچھ اور میرا امتحاں ہو مجھے درپیش ہے بس ایک منزل کہ تجھ سے بات ہو لیکن کہاں ہو جسے موج بلا چومے مسلسل مری کشتی کا ایسا بادباں ہو کہاں تک صورت امکاں نکالوں اگر ہر بار محنت رائیگاں ہو مرے خوابوں کی وہ بے نام جنت زمین و آسماں کے درمیاں ہو مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5640 سے 6203