قومی زبان

سوچتا ہوں یہاں کس سے ہے شناسائی مری

سوچتا ہوں یہاں کس سے ہے شناسائی مری وہی ویراں سا مکاں ہے وہی تنہائی مری جس کی زلفوں میں لگایا ہے محبت کا گلاب کاغذی پھولوں سے کرتا ہے پذیرائی مری اس دریچے میں نہیں دیکھنے والا کوئی وہ تماشا ہوں کہ ہے خلق تماشائی مری بند غم ٹوٹ کے اشعار میں بہہ نکلا ہے قریے قریے میں ہوئی جاتی ...

مزید پڑھیے

موسم تو بدلتا ہے بدل جائے تو کیا ہو

موسم تو بدلتا ہے بدل جائے تو کیا ہو پھولوں سے جو خوشبو بھی نکل جائے تو کیا ہو جاتا ہوں کڑی دھوپ میں پرچھائیں کے ہم راہ صحرا میں یہ پرچھائیں بھی جل جائے تو کیا ہو یہ مشورۂ ضبط بھی تسلیم ہے لیکن آنسو مری آنکھوں سے نکل جائے تو کیا ہو مہتاب سہارا ہے شب زیست کا فاخرؔ یہ زرد سا مہتاب ...

مزید پڑھیے

جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا

جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا لیکن ہوا نہ دور اندھیرا مکان کا گندم کی بالیوں سے بہت روشنی ہوئی اس روشنی سے قرض نہ اترا کسان کا آنچل کسی کا تیز ہوا نے اڑا دیا کشتی سے رابطہ نہ رہا بادبان کا زخم نوازشات مہکتا رہا سدا دیکھا کوئی گلاب نہ اس آن بان کا فاخرؔ جمی ہوئی ہے ابھی تک وہیں ...

مزید پڑھیے

کیا دن تھے گلابوں سے شناسائی تھی اپنی

کیا دن تھے گلابوں سے شناسائی تھی اپنی آتش کا جواں ہونا بھی رسوائی تھی اپنی مہتاب کی سانسوں میں توازن نہ رہا تھا اس چاند نے اک رات جو چمکائی تھی اپنی یہ عشق تو لگتا ہے کہ آسیب ہے کوئی ہم نے تو طبیعت ذرا بہلائی تھی اپنی اب ڈھونڈ کے لائے کوئی اور آئنہ جس میں صورت ہمیں اک روز نظر ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کیا یہ جہان گزراں لگتا ہے

کیا کہیں کیا یہ جہان گزراں لگتا ہے گل کا ہنسنا بھی طبیعت پہ گراں لگتا ہے اس جہاں سے بھی تو اک روز نکلنا ہوگا یہ جہاں بھی تو کرائے کا مکاں لگتا ہے اشک غم آنکھ میں آ جاتے ہیں روکیں کیسے آگ جلتی ہے تو آنکھوں میں دھواں لگتا ہے جانے کیا میری سماعت کو ہوا ہے فاخرؔ نغمۂ عیش بھی سنئے ...

مزید پڑھیے

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے صحرا کو آندھیوں کی تمنا عجیب ہے موجوں کے اضطراب نے دھڑکا دیا تھا دل اترے جو ہم اتر گیا دریا عجیب ہے دشوار ہو گئی ہے اب اپنی شناخت بھی آئینہ کہہ رہا ہے کہ چہرہ عجیب ہے شاخیں جو میرے صحن میں ہیں ان میں پھل نہ آئے ہم سائے کا درخت بھی کتنا عجیب ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے

سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے وہ روشنی ہے ترے غم کی ماہتابی سے صبا کے ہاتھ ہے اب عزت نگاہ مری چمن مہکنے لگا گل کی بے حجابی سے فرار ان سے ہے مشکل وہ دسترس میں نہیں یہ زرد زرد سے موسم وہ دن گلابی سے لہو لہو نظر آتی ہے شاخ گل مجھ کو کھلے وہ پھول تری تازہ انقلابی سے عجب نہیں ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کیا کہئے راہ شوق کو کس طرح سر کیا

کیا کہئے راہ شوق کو کس طرح سر کیا ہم نے سفر فضاؤں میں بے بال و پر کیا زلف اس کی ہو رہی تھی پریشاں ہواؤں میں ہم یہ سمجھ رہے تھے دعا نے اثر کیا پوچھو نہ کس طرح سے گزاری ہے زندگی مدھم سے اک دیے نے ہوا میں سفر کیا فاخرؔ گزر رہے ہیں ہم اس دور سے یہاں جس نے محبتوں کو بھی مرہون زر کیا

مزید پڑھیے

آج یوں ہستیٔ امکان و گماں سے نکلے

آج یوں ہستیٔ امکان و گماں سے نکلے ڈوب کر جیسے مکاں سیل رواں سے نکلے رت جگے بولنے لگتے ہیں مری آنکھوں میں روبرو حرف نہ جب کوئی زباں سے نکلے شاخ ہستی سے نہ اڑ جائے کہیں طائر جاں جب تلک تیر کسی شوخ کماں سے نکلے سب گلاب اپنے ہی لگتے ہیں چمن میں لیکن کوئی تو اپنا صف لالہ رخاں سے ...

مزید پڑھیے

اب چاند نہیں کوئی ستارہ نہیں کوئی

اب چاند نہیں کوئی ستارہ نہیں کوئی شب اتنی اندھیری ہے کہ نکلا نہیں کوئی ہر چند نظر آتی ہے دیوار تمنا چاہیں کہ ٹھہر جائیں تو سایہ نہیں کوئی چہروں کو یہ غم ہے کوئی آئینہ نہیں ہے آئینہ ترستا ہے کہ چہرہ نہیں کوئی جس سے بھی ملو دیکھ کے رہ جاتا ہے منہ کو ایسا بھی نہیں ہے کہ شناسا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5575 سے 6203