قومی زبان

آنکھوں کا بھی ہم سے کبھی پردہ نہیں رکھا

آنکھوں کا بھی ہم سے کبھی پردہ نہیں رکھا ملنے کا بھی لیکن کوئی رستہ نہیں رکھا وہ زخم دیے باد صبا نے کہ شجر نے پتہ بھی سر شاخ تمنا نہیں رکھا ہم نے تو بہت صاف کیا آئنہ دل کا اس نے مگر آئینے میں چہرہ نہیں رکھا دیوار اٹھائی اگر الفاظ کی اس نے بھولے سے بھی معنی کا دریچہ نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں جس نے بھلا دیا اسے بھولا نہیں ہوں میں اب لمحہ لمحہ اپنے بکھرنے کا خوف ہے غنچے کی طرح بند ہوں کھلتا نہیں ہوں میں پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پرچھائیں بھی نہ تھی سوچا تھا راہ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں یہ سوچتا ہوں کیسے رہوں گا تمہارے ساتھ اکثر ...

مزید پڑھیے

اک ہم ہیں گلا کرنے کی ہمت نہیں کرتے

اک ہم ہیں گلا کرنے کی ہمت نہیں کرتے اک تم ہو کہ خوابوں کو حقیقت نہیں کرتے جاؤ تو مگر عکس کوئی چھوڑ نہ جانا اب آئنے عکسوں کی حفاظت نہیں کرتے اب چاند کا ارماں بھی سر شام نہیں ہے آنکھوں کے جھروکے بھی شکایت نہیں کرتے ہم دھوپ سے نرمی کی امیدیں ہی رکھے جائیں ہر چند کہ سائے بھی مروت ...

مزید پڑھیے

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے دنیا کہیں ویران نہ ہو جائے یہ ڈر ہے لائے گی کبھی رنگ ہواؤں کی محبت ہم جس میں بسر کرتے ہیں وہ ریت کا گھر ہے صحرا میں کسی سائے کی امید نہ ٹوٹی حسرت کی نگاہوں میں بگولا بھی شجر ہے نکلی ہے گمانوں سے یہی شکل یقیں کی جس سمت اڑے گرد وہی راہ گزر ہے مہتاب ...

مزید پڑھیے

چاندنی جس کی در جاں پہ ہم اکثر دیکھیں

چاندنی جس کی در جاں پہ ہم اکثر دیکھیں کبھی اس چاند کو بھی ہاتھ سے چھو کر دیکھیں کیسے بھر لیں در و دیوار پہ آویزاں ہیں جس طرف دیکھیں تری یاد کا منظر دیکھیں کبھی بارش کی بھی راتوں میں نہ چمکی بجلی یہی ارمان رہا گھر کو منور دیکھیں آنکھ کھل جائے تو صحرا کی زمیں پر ہوں قدم نیند آ ...

مزید پڑھیے

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا کھلا ہی رہتا تھا ہر دم گلاب کی صورت مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں وہ جب بدن پہ گلوں کی قباؤں جیسا تھا یہ اس کی یاد تپاں کیوں ہے دھوپ سی فاخرؔ وہ بے وفا تو برستی گھٹاؤں ...

مزید پڑھیے

مسافت شب ہجراں طویل لکھتے رہے

مسافت شب ہجراں طویل لکھتے رہے ملے جو درد انہیں سنگ میل لکھتے رہے حکایتیں ہی نہیں لکھیں آگ کی ہم نے حقیقتیں بھی برنگ خلیل لکھتے رہے جو قلب و جاں میں ہے خوشبو کسی کی زلفوں کی اسی کو اپنی متاع جلیل لکھتے رہے رہی یہ آس کہ سیراب ہوگی کشت حیات سو جوہڑوں کو بھی دریائے نیل لکھتے ...

مزید پڑھیے

بھٹکتے پھرتے ہیں شہر وفا سے نکلے ہوئے

بھٹکتے پھرتے ہیں شہر وفا سے نکلے ہوئے بہت ملول ہیں کوئے وفا سے نکلے ہوئے طلسم آب ثبات گلاب عکس چراغ تمام رنگ ہیں تیری قبا سے نکلے ہوئے بلائیں پھرتی ہیں خالی مکان میں شاید پڑے ہیں دور دریچے ہوا سے نکلے ہوئے نوا میں کرب وہی دل کی وحشتیں بھی وہی گو ایک عمر ہوئی ہے بلا سے نکلے ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھا

ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھا اے دل سم اندوہ زیادہ تو نہیں تھا اک رنج تمنا سے بہت سرخ تھیں آنکھیں صد شکر خدا نشۂ بادہ تو نہیں تھا آئے تھے ترے پاس گھڑی بھر کے لیے ہم تا عمر ٹھہرنے کا ارادہ تو نہیں تھا آسان تو پہلے بھی نہیں تھی یہ رہ دل مشکل بھی مگر اتنا یہ جادہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے امان ڈھونڈ رہا ہے کھلا ہوا پانی محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے منائیں خیر کہو ساحلوں سے آج کی رات سبک خرام سا دریا ہوا کی زد پر ہے وفور رنج تمنا سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5576 سے 6203