قومی زبان

ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا

ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا شب وصال تمھارا جمال ایسا تھا ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے اترتی شام کے رخ کا جمال ایسا تھا ذرا سی دیر بھی ٹھہرا نہیں ہوں موجوں میں سمے کے بحر میں اب کے اچھال ایسا ...

مزید پڑھیے

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا میں تری ذات سے آگے نہیں جانے والا تو بھی اوقات میں رہ مجھ سے جھگڑنے والے میں بھی اوقات سے آگے نہیں جانے والا ایسے لگتا ہے مری جان تعلق اپنا اس ملاقات سے آگے نہیں جانے والا آج کی رات ہے بس نور کی کرنوں کا جلال دیپ اس رات سے آگے نہیں جانے والا میرے ...

مزید پڑھیے

غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا

غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا ہری بھری رتوں کو میری شال کر دیا گیا قدم قدم پہ کاسہ لے کے زندگی تھی راہ میں سو جو بھی اپنے پاس تھا نکال کر دیا گیا میں زخم زخم ہو گیا لہو وفا کو رو گیا لڑائی چھڑ گئی تو مجھ کو ڈھال کر دیا گیا گلاب رت کی دیویاں نگر گلاب کر گئیں میں سرخ رو ہوا اسے بھی ...

مزید پڑھیے

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں بات کرنے کا ہنر تھا مجھ میں صبح ہوتے ہی سبھی نے دیکھا کوئی تا حد نظر تھا مجھ میں ماں بتاتی ہے کہ بچپن کے سمے کسی آسیب کا ڈر تھا مجھ میں جو بھی آیا کبھی واپس نہ گیا ایسی چاہت کا بھنور تھا مجھ میں میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ اور صدیوں کا سفر تھا مجھ ...

مزید پڑھیے

کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے

کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے اب تم کبھی ملے ہو تو آنسو نکل گئے فرط غم حوادث دوراں کے باوجود جب بھی ترے دیار سے گزرے مچل گئے میں نکتہ چیں نہیں ہوں مگر یہ بتائیے وہ کون تھے جو ہنس کے گلوں کو مسل گئے کچھ دست گل فروش میں سنولا کے رہ گئے کچھ باغباں کی برق نوازی سے جل گئے تم نے ...

مزید پڑھیے

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی یوں جلی یوں بجھی کہ دھول ہوئی ہم نے بھی جشن گل کو دیکھا تھا آج تک سوچتے ہیں بھول ہوئی کیا کریں اپنی اس طبیعت کو آپ سے مل کے بھی ملول ہوئی حسن شیریں رہا شکار ہوس جہد فرہاد بے حصول ہوئی ہم ہیں وہ کشتگان شوق جنہیں صحبت دار بھی قبول ہوئی لے سنبھل ظلمتوں کے ...

مزید پڑھیے

بہ وصف شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے

بہ وصف شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے فروغ قامت و رخ کی ثنا نہیں کرتے شکست عہد ستم پر یقین رکھتے ہیں ہم انتہائے ستم کا گلا نہیں کرتے کچھ اس طرح سے لٹی ہے متاع دیدہ و دل کہ اب کسی سے بھی ذکر وفا نہیں کرتے اسی لئے ہیں سزاوار جور برق ستم کہ حق خدمت گلچیں ادا نہیں کرتے مذاق کوہکنی ہو ...

مزید پڑھیے

ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو

ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو ہم سے وابستہ ہے تعمیر بہاراں یارو قربت کاکل و رخسار سے جی تنگ نہیں اک ذرا چین تو دے گردش دوراں یارو لاکھ ہم مرحلۂ دار و رسن سے گزرے زندگی سے نہ ہوئے پھر بھی گریزاں یارو اک تھکا خواب کہ سینے میں سلگتا ہے ابھی اک دبی یاد کہ ہے نیش رگ جاں ...

مزید پڑھیے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے امان ڈھونڈ رہا ہے کھلا ہوا پانی محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے منائیں خیر کہو ساحلوں سے آج کی رات سبک خرام سا دریا ہوا کی زد پر ہے وفور رنج تمنا سے ...

مزید پڑھیے

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5574 سے 6203