مثال موج نسیم بہار گزری ہے

مثال موج نسیم بہار گزری ہے
وہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے


وہ اک نگاہ جو پیغام صد نشاط بھی ہے
نہ جانے کیوں وہ مرے دل پہ بار گزری ہے


وہ تشنگی جو سر میکدہ نکھرنا تھی
وہ تشنگی بھی یوں ہی بے بہار گزری ہے


ابھی ابھی تو نہ آ اے خیال آمد یار
ابھی ابھی تو شب انتظار گزری ہے


ہمیں تو ان کی نگاہوں کا اعتبار نہیں
جو کہہ رہے ہیں ادھر سے بہار گزری ہے


تمام عمر کیا ان کا انتظار اخترؔ
تمام عمر بڑی بے قرار گزری ہے