قومی زبان

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا یوں بھی دیکھ کر تم کو اور ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں

کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں پھول کے سائے میں مرجھایا ہوا پتا ہوں میں خاک کا ذرہ بھی کوئی تیرے دامن میں نہ تھا قدر کر اے زندگی ٹوٹا ہوا تارا ہوں میں ہر دھڑکتے دل سے انجانا سا رشتہ ہے مرا آگ دامن میں کسی کے بھی لگے جلتا ہوں میں اپنی تاریکی سمیٹے پوچھتی ہے مجھ سے ...

مزید پڑھیے

نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی

نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی یہ رات پھر مری آنکھوں سے آج ہار گئی لئے ہوئے کوئی افسانۂ بہار گئی صبا چمن سے بہت آج سوگوار گئی ہوئی جو صبح تو اشکوں سے جگمگا اٹھی جو آئی شام تو یادوں سے مشک بار گئی اسی نگاہ نے مارا الم پرستوں کو وہی نگاہ مری زندگی سنوار گئی زمین کوئے ملامت بھی ...

مزید پڑھیے

پاس کے شہر میں فساد

پاس کے شہر سے کرفیو کی بے آواز چاپ دھیرے دھیرے مرے شہر کی گلیوں اور چوراہوں تک آ پہنچی ہے رات کی طرح خوف پھیلا ہے دروازے کھڑکیاں چپ کتے بھی چپ ہراساں دور دور تک سڑکوں کو تکتے ہیں پھر روتے ہیں پاس کے شہر میں نعرے ابھرتے ہیں ایک ہی ساتھ جیسے ڈھیر سارے بکروں کی گردنوں پہ دھار دار ...

مزید پڑھیے

رات کی آنکھ میں ایک خنجر اگا

رات کی آنکھ میں ایک خنجر اگا رات کالی ہے اجلی ہے پیلی ہے نیلی ہے یا پھر رات کا کوئی رنگ ہی نہیں ہے مگر جو بھی ہو رات کالی ہے ایسا سمجھ لیجئے رات کالی ہے بہتی ہے جیسے ندی اندھے پانی کی کہرے کی یا دھند کی رات کی آنکھ میں ایک خنجر اگا ایک وحشی پرندے نے خنجر کا بوسہ لیا نوک خنجر پرندے ...

مزید پڑھیے

اپنے شہر میں فساد

سفید کبوتروں سے آج سارا آکاش خالی ہے دھوپ ڈری ہوئی فاختہ سی لگتی ہے منڈیروں پہ بیٹھی ہوئی زرد ہے کانپ کانپ اٹھتی ہے ہوا آدمی کی طرح کرفیو سے بھرے ہوئے شہر کی سڑکوں پہ گھوڑوں کی وحشی ٹاپیں آگ اڑاتی ہیں مکان جلتے ہیں مرے تمہارے اندر ہمارے دھواں دھواں سا کچھ رہ رہ اٹھتا ہے دور میں ...

مزید پڑھیے

امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں

امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں ایک پرندہ چھوڑ چکا ہوں وقت کسی کا کب ہوتا ہے وقت کا رونا چھوڑ چکا ہوں میرے حصے آتا بھی کیا اپنا حصہ چھوڑ چکا ہوں امیدوں کے سینے پر اب سر کو رکھنا چھوڑ چکا ہوں تم سگریٹ کی بات کرو ہو میں تو جینا چھوڑ چکا ہوں تیرے حسن پہ لعنت ہے جا تیرا رونا چھوڑ چکا ...

مزید پڑھیے

اب درمیاں کوئی بھی شکایت نہیں بچی

اب درمیاں کوئی بھی شکایت نہیں بچی یعنی قریب آنے کی صورت نہیں بچی اب اور کوئی صدمہ نہیں جھیل سکتا میں اب اور میری آنکھوں میں حیرت نہیں بچی خاموشیوں نے اپنا اثر کر دیا شروع اب رشتے کو صدا کی ضرورت نہیں بچی ہر سمت صرف بات محبت کی ہے رواں یعنی جہاں میں آج محبت نہیں بچی فرصت کے وقت ...

مزید پڑھیے

اس نے یوں راستہ دیا مجھ کو

اس نے یوں راستہ دیا مجھ کو راستے سے ہٹا دیا مجھ کو دور کرنے کے واسطے خود سے خود کا ہی واسطہ دیا مجھ کو موت ہی کچھ سکون دے شاید زندگی نے تھکا دیا مجھ کو جب مرے بال و پر شکستہ ہوئے تب قفس سے اڑا دیا مجھ کو جس ہوا نے مجھے جلائے رکھا پھر اسی نے بجھا دیا مجھ کو

مزید پڑھیے

جدائی میں تری آنکھوں کو جھیل کرتے ہوئے

جدائی میں تری آنکھوں کو جھیل کرتے ہوئے ثبوت ضائع کیا ہے دلیل کرتے ہوئے میں اپنے آپ سے خوش بھی نہیں ہوں جانے کیوں سو خوش ہوں اپنے ہی رستے طویل کرتے ہوئے نہ جانے یاد اسے آیا کیا اچانک ہی گلے لگا لیا مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے کہیں تری ہی طرح ہو گیا نہ ہو یہ دل سو ڈر رہا ہوں اب اس کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5407 سے 6203