سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا
سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا یوں بھی دیکھ کر تم کو اور ...