تری تلاش میں جس وقت ہم نکلتے ہیں

تری تلاش میں جس وقت ہم نکلتے ہیں
قدم بھی چلتے ہیں نقش قدم بھی چلتے ہیں


جو تند و تیز ہواؤں کا رخ بدلتے ہیں
جہاں میں صرف انہیں کے چراغ جلتے ہیں


اسی لئے مرے ارماں نہیں نکلتے ہیں
کہ تیز دھوپ میں چلنے سے پاؤں جلتے ہیں


سوئے حرم ہی مڑیں ہم یہ کیا ضروری ہے
تری گلی سے کئی راستے نکلتے ہیں


تمہاری سازش پیہم کو مات دے دے کر
وہ ایک ہم ہیں جو ہر بار بچ نکلتے ہیں


ہم ان کو ڈھونڈنے نکلے ہیں دیکھیے کیا ہو
کہ جو نقوش کف پا مٹا کے چلتے ہیں


اٹھا کے دوش پہ اخترؔ محبتوں کی صلیب
ہم آج حسن کے بازار میں نکلتے ہیں