دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے

دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے
نئی زمین نکالی نئی غزل کے لئے


نفاستوں میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ہم
گلوں کے بوسے بھی ہم نے سنبھل سنبھل کے لئے


سفر میں رہتے ہیں ہر وقت خوشبوؤں کی طرح
سکوں ملا نہ کہیں ہم کو ایک پل کے لئے


یہ راہ عشق و وفا ہے یہاں کا مسلک ہے
قدم قدم رہو تیار تم اجل کے لئے


ہوا میں اس قدر تیزابیت سمائی ہے
کہ شاخ شاخ ترستی ہے پھول و پھل کے لئے


ہرے بھرے ہیں ہر اک حال میں وہ اے اخترؔ
قلندروں کو کوئی غم نہیں ہے کل کے لئے