سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا
سوچنا چھوڑ دیا ہم نے کہ کل کیا ہوگا
اس سے بہتر غم دوراں ترا حل کیا ہوگا
تم مجھے شہر بدر کر تو رہے ہو لیکن
یہ بھی سوچا ہے کہ انجام غزل کیا ہوگا
میں تو کر لوں بہ خوشی تجھ کو گوارہ لیکن
غم تنہائی ترا درد عمل کیا ہوگا
جس کی خوشبو سے مہکتے ہیں در و بام حیات
کچھ سہی موسم گل اس کا بدل کیا ہوگا
جگمگاتا ہے جو ہر ذرے کے دل میں اکثر
ہائے وہ حسن صنم حسن ازل کیا ہوگا
خود مسیحا ہے یہاں آہ و فغاں میں مصروف
اس سے اوروں کی تکالیف کا حل کیا ہوگا
گیسوئے وقت الجھتے ہی چلے جاتے ہیں
ہر بشر سوچ میں ڈوبا ہے کہ کل کیا ہوگا
اے میرے بھولنے والے کبھی یہ بھی سوچا
جگمگا اٹھے جو یادوں کے کنول کیا ہوگا
ہر نفس دار کی مانند لگے ہے اخترؔ
زندگی یہ ہے تو پھر رنگ اجل کیا ہوگا