جب تمہاری بات ہوگی
جب تمہاری بات ہوگی وہ غزل کی رات ہوگی گنگنائے گیت ساون رم جھمی برسات ہوگی چاند چھت پر اور میں بھی دیکھیے کیا بات ہوگی آج ایسا لگ رہا ہے پریم کی شروعات ہوگی اور شاید خواب میں ہی سج رہی بارات ہوگی
جب تمہاری بات ہوگی وہ غزل کی رات ہوگی گنگنائے گیت ساون رم جھمی برسات ہوگی چاند چھت پر اور میں بھی دیکھیے کیا بات ہوگی آج ایسا لگ رہا ہے پریم کی شروعات ہوگی اور شاید خواب میں ہی سج رہی بارات ہوگی
نہ دے طبیب دوا درد میں کمی کے لئے کہ دل کا روگ ضروری ہے زندگی کے لئے رہ حیات میں ٹھوکر نہ اب لگے گی تمہیں کہ زخم دل ہیں مرے سب کی روشنی کے لئے تھی اس کے جسم پہ بوسیدہ بے کسی کی ردا مگر وہ مانگ رہا تھا دعا سبھی کے لئے میں مانتا ہوں کہ نکلا ہے سچ کی کھوج میں وہ مگر یہ کام نہیں سہل ہر ...
اپنے لوگوں سے رابطہ رکھو پاس رسم و رہ وفا رکھو ٹوٹ جائے گا دل جدائی سے آنے جانے کا سلسلہ رکھو راہ دریا میں گر بنانا ہے ہاتھ میں موسوی عصا رکھو خلد ہے ان کے پاؤں کے نیچے ماں کو کس نے کہا خفا رکھو ناؤ خود ہی بھنور سے نکلے گی ناخدا ہو تو حوصلہ رکھو حال چہرے کا وہ بتا دے گا سامنے ...
خون میں ڈوبا ہوا شہر کا منظر ہے میاں ایسے ماحول سے تو گاؤں ہی بہتر ہے میاں کس گھڑی کیا ہو مرے ساتھ کوئی ٹھیک نہیں ان دنوں چاروں طرف خوف کا لشکر ہے میاں عافیت اس میں تمہاری ہے کہ خاموش رہو اور کہنے کو مرے پاس بھی دفتر ہے میاں عمر بھر تیشہ زنی میری طرح کون کرے سخت پتھر کی طرح میرا ...
جن کے ہاتھوں میں کبھی شیشہ تھا پتھر دیکھا وقت کا کیسا یہ بدلا ہوا منظر دیکھا دیکھ کر مجھ کو تو منہ پھیر لیا کرتے تھے آج کیا بات ہے تم نے مجھے ہنس کر دیکھا جل گیا نخل انا خاک ہوئی شاخ ضمیر چہرۂ گل نے عجب دھوپ کا منظر دیکھا میرے اسلاف نے احسان کیے تھے جن پر میں نے ان کو بھی حریفوں ...
ہماری طرح تم تڑپو تو جانیں مسلسل رات بھر جاگو تو جانیں وضو میری طرح اشکوں سے کر کے غزل کے بام تک پہنچو تو جانیں سبھی چہرے یہاں ہیں ایک جیسے ستم گر کون ہے پرکھو تو جانیں وہ وحشی بے سبب چنگھاڑتا ہے بناؤ آدمی اس کو تو جانیں جلا کر عشق کی قندیل دل میں اندھیری راہ سے گزرو تو ...
ہے کوئی بات یقیناً نصاب کے پیچھے سوال تن کے کھڑا ہے جواب کے پیچھے یہ اور بات کہ گلشن کو ناز ہے اس پر مگر ہیں سیکڑوں کانٹے گلاب کے پیچھے میں اس کے سامنے رسوا کبھی نہیں ہوتا چھپا ہوا ہوں جنوں کی کتاب کے پیچھے بجھے گی پیاس نہ ہرگز قریب جا کر بھی مگر وہ بھاگ رہا ہے سراب کے ...
وسعت ہے ترے ذہن میں تو تاج محل رکھ یہ تاج محل میرا ہے لے میری غزل رکھ یہ قول بزرگوں کا ہے مت ہنس کے اسے ٹال بچوں کی رکابی میں سدا پیار کا پھل رکھ آتا ہے ہر اک سال ترے گاؤں میں سیلاب پلکوں پہ مرے یار نہ سپنوں کا محل رکھ ٹھوکر سے بچانا ہے اگر اپنی انا کو دل میں نہ سہی اپنے لبوں پر تو ...
کھلا دماغ تو پھر دل کو صاف کرنا پڑا مری وفا کا اسے اعتراف کرنا پڑا وہ اپنے چہرے پہ رکھتا تھا دوسرا چہرہ فریب کھا کے مجھے انکشاف کرنا پڑا تھیں ایسی کون سی مجبوریاں تمہارے لئے کہ اہل دل سے تمہیں اختلاف کرنا پڑا چہار سمت گناہوں کے ہاتھ پھیلے تھے اسی لئے تو مجھے اعتکاف کرنا ...
بیڑیاں اپنے اے اسیر نہ دیکھ ہاتھ اٹھا ہاتھ کی لکیر نہ دیکھ عقل رکھتا ہے تو سمجھ مفہوم صرف الفاظ بے نظیر نہ دیکھ گھر سے نکلا ہے جب دعا دیتے کون مفلس ہے یا امیر نہ دیکھ کوئی خوبی نظر نہ آئے گی میری تصویر عیب گیر نہ دیکھ کون سن کر صدا نہ آئے گا بند دروازہ اے فقیر نہ دیکھ عزم کا ...