سفر ہے دھوپ کا اس میں قیام تھوڑی ہے
سفر ہے دھوپ کا اس میں قیام تھوڑی ہے بلا ہے عشق یہ بچوں کا کام تھوڑی ہے کسی کو وصل ہے بوجھل کوئی فراق میں خوش دلوں کے کھیل میں کوئی نظام تھوڑی ہے ہمارے دل میں دھڑکتا ہے نام اس کا ابھی ہے یہ شروع محبت تمام تھوڑی ہے جو اہل عشق ہیں منزل کا غم نہیں کرتے یہ خاص لوگوں کا رستہ ہے عام ...