قومی زبان

سن کے بھی میری صدا کیا کرتا

سن کے بھی میری صدا کیا کرتا وہ تو پتھر ہے وفا کیا کرتا وقت کی چیخ پہ آنکھیں نہ کھلیں سرد احساس بھلا کیا کرتا ہر قدم پر تھی ہوا کی یورش ایک تنہا سا دیا کیا کرتا مجھ سے قربت ہی نہیں تھی اس کو پوچھ کر حال مرا کیا کرتا جس کو جینے کی تمنا ہی نہ تھی زندگی لے کے بتا کیا کرتا ناؤ ساحل ...

مزید پڑھیے

موقع رقص نہ دے گی مجھے تقدیر ابھی

موقع رقص نہ دے گی مجھے تقدیر ابھی ہے مرے پاؤں میں حالات کی زنجیر ابھی پھر جلا لینا اجالے کی ضرورت ہو اگر ادھ جلے گھر میں تو موجود ہے شہتیر ابھی لاؤ لشکر میاں رہتے مرے آگے پیچھے کاش رہتی مرے اجداد کی جاگیر ابھی تم نہ پہچان سکو گے اسے آسانی سے وقت کی گرد میں گم ہے مری تصویر ...

مزید پڑھیے

چلو ہم میں وفاداری نہیں ہے

چلو ہم میں وفاداری نہیں ہے مگر کیا تم میں غداری نہیں ہے تمہارا جھک کے ملنا ہر کسی سے بتاؤ کیا اداکاری نہیں ہے کوئی منصف مجھے کیونکر ملے گا مرا انداز درباری نہیں ہے بڑا ہی نیک ہے وہ پارسا بھی فقط اس میں ملن ساری نہیں ہے حقارت سے زمانہ دیکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ سرداری نہیں ہے کھلے ...

مزید پڑھیے

تا قیامت نہیں زوال ہمیں

تا قیامت نہیں زوال ہمیں اس نے بخشا ہے وہ کمال ہمیں ہم کہ روشن کتاب والے ہیں پوچھئے کوئی بھی سوال ہمیں گردش وقت اپنے کل کی سوچ اس قدر کر نہ پائمال ہمیں ہم ترے عہد کی امانت ہیں اپنے سینے میں رکھ سنبھال ہمیں ایک بے رنگ کتاب کی صورت میز پر یوں نہ تو اچھال ہمیں چاند تاروں نے آسماں ...

مزید پڑھیے

ستارے رقص کرتے ہیں نہ تارے رقص کرتے ہیں

ستارے رقص کرتے ہیں نہ تارے رقص کرتے ہیں تری خاطر شب فرقت کے مارے رقص کرتے ہیں کبھی آ کر چلے جانا کبھی چھپنا کبھی ملنا مری آنکھوں میں اب تک وہ نظارے رقص کرتے ہیں نہ جانے مطربہ نے ساز پر دھن کیسی چھیڑی ہے شریک بزم جتنے ہیں وہ سارے رقص کرتے ہیں ذرا سی چھیڑ پر اے شمسؔ ان کی کیفیت ...

مزید پڑھیے

ایک ہم سخاوت میں گھر کا گھر لٹا بیٹھے

ایک ہم سخاوت میں گھر کا گھر لٹا بیٹھے ایک وہ خیانت سے اپنا گھر سجا بیٹھے روشنی کا ذمہ جو اپنے سر لیا ہم نے اور کچھ نہ سوجھا تو اپنا گھر جلا بیٹھے اپنے ہار جانے کا غم نہیں ذرا مجھ کو غم ہے میرے اپنے بھی دشمنوں میں جا بیٹھے کس قدر بھروسہ تھا ان کو ذات اقدس پر یوں ہی تھوڑی اپنی وہ ...

مزید پڑھیے

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں اسے معافی سمجھ لینا انتقام نہیں مجھے پتا ہے جو تجھ کو خدا سمجھتے ہیں وہی ہیں جن کی خدا سے دعا سلام نہیں مرے علاوہ کوئی میری بات سنتا نہیں اور آج کل تو میں خود سے بھی ہم کلام نہیں اسی لیے تو سہولت سے جل رہے ہیں چراغ انہیں پتہ ہے ہوا کا کوئی ...

مزید پڑھیے

منزل پہ دھیان ہم نے ذرا بھی اگر دیا

منزل پہ دھیان ہم نے ذرا بھی اگر دیا آکاش نے ڈگر کو اجالوں سے بھر دیا رکنے کی بھول ہار کا کارن نہ بن سکی چلنے کی دھن نے راہ کو آسان کر دیا پانی کے بلبلوں کا سفر جانتے ہوئے تحفے میں دل نہ دینا تھا ہم نے مگر دیا پیپل کی چھاؤں بجھ گئی تالاب سڑ گئے کس نے یہ میرے گاؤں پہ احسان کر ...

مزید پڑھیے

جھلملاتے ہوئے دن رات ہمارے لے کر

جھلملاتے ہوئے دن رات ہمارے لے کر کون آیا ہے ہتھیلی پہ ستارے لے کر ہم اسے آنکھوں کی دہری نہیں چڑھنے دیتے نیند آتی نہ اگر خواب تمہارے لے کر رات لائی ہے ستاروں سے سجی قندیلیں سرنگوں دن ہے دھنک والے نظارے لے کر ایک امید بڑی دور تلک جاتی ہے تیری آواز کے خاموش اشارے لے کر رات شبنم ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ مگر قافلوں سے ہم ہونے کو پھر شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ میں آئے بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہمیں ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باریکیوں سے ہم جن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5271 سے 6203